
یہ سمجھ لینا ایک خطرناک سادگی ہے کہ جنسی استحصال اور بلیک میلنگ صرف کسی ایک ملک یا ایک کردار کا مسئلہ ہے۔ دنیا نے ایک نام دیکھا مگر حقیقت یہ ہے کہ نام نہیں نظام بولتا ہے۔ ایسا نظام جو کمزور کو قیمت اور طاقتور کو استثنا بنا دیتا ہے۔کشمیر میں کوئی نجی جزیرہ نہیں مگر یہاں بھی وہی ماڈل زندہ ہے۔ یہاں عہدہ جزیرہ ہے، سفارش باڑ ہے، خوف پہرے دار ہے اور خاموشی قانون بن چکی ہے۔ تعلیمی اداروں میں نمبر، دفاتر میں نوکری، سیاست میں ٹکٹ اور معاشرے میں عزت وہ دروازے ہیں جہاں خوابوں کے بدلے سود وصول کیا جاتا ہے۔سوال یہ نہیں کہ جرم ہوتا ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کتنے جرائم کبھی رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ کتنے متاثرین بدنامی کے خوف سے سچ نگل لیتے ہیں۔ کتنے خاندان عزت کے نام پر اپنی اولاد کو خاموشی کی قبر میں اتار دیتے ہیں۔ اور کتنے مجرم محض ٹرانسفر، مفاہمت یا اثر و رسوخ کی بدولت بچ نکلتے ہیں۔اسی خاموشی کے سائے میں ایک اور تباہی پل رہی ہے۔ آئس نشہ۔ وہ سفید زہر جو سوچ کو مفلوج اور ضمیر کو سلا دیتا ہے۔ تعلیمی ادارے، ہوسٹل، شہروں کے پوش علاقے اور نیم دیہی بستیاں اس کی لپیٹ میں ہیں۔ نوجوانی جو سوال کرتی تھی اب نشے میں جواب بھول رہی ہے۔ ادارے جو نگہبان تھے اب تماشائی ہیں تشویشناک بات یہ ہے کہ سماجی کارکنوں اور فیلڈ میں کام کرنے والوں کے مشاہدے کے مطابق آئس نشہ کرنے والی خواتین کی تعداد بعض علاقوں میں مردوں سے کم نہیں بلکہ زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ یہ کوئی سنسنی خیز دعویٰ نہیں بلکہ ایک لرزہ خیز سوال ہے۔ وہ خواتین جو دباؤ، بلیک میلنگ، معاشی مجبوری اور سماجی گھٹن کے بیچ پس جاتی ہیں، نشے کو عارضی پناہ سمجھ لیتی ہیں۔ پھر نشہ بلیک میلنگ کو اور بلیک میلنگ جرم کو طاقت دیتی ہے۔ ایک دائرہ جو خود کو کھاتا رہتا ہے۔ادارہ جاتی خاموشی اس سب کی ماں ہے۔ جب ادارے ایک دوسرے کی فائلوں کے اسیر ہو جائیں، جب رازوں کا توازن انصاف پر بھاری ہو جائے، تو قانون مصلحت بن جاتا ہے۔ میڈیا محتاط ہو جاتا ہے، زبان تولی جاتی ہے اور سچ سوال بننے سے پہلے ہی دم توڑ دیتا ہے۔یہ کالم کسی فرد پر الزام نہیں رکھتا۔ یہ سماج کے سامنے آئینہ رکھتا ہے۔ کیا ہمارے پاس آزاد شکایتی نظام ہے۔ کیا متاثرہ فرد کی شناخت واقعی محفوظ ہے۔ کیا ویڈیو بلیک میلنگ اور آئس نشے کے خلاف فوری اور مؤثر عمل نظر آتا ہے۔ یا ہم محض اعداد، سرگوشیوں اور فائلوں کے بوجھ تلے وقت گزار رہے ہیں۔حل نعروں میں نہیں نظام کی مرمت میں ہے۔ تعلیمی اداروں میں آزاد اور بااختیار شکایتی سیل۔ وہسل بلوور کا حقیقی تحفظ۔ متاثرین کی رازداری کا عملی احترام۔ اور میڈیا کی اجتماعی جرات۔ ان کے بغیر ہر شور وقتی ہے اور ہر مہم ادھوری۔آخر میں بات سیدھی ہے۔ جرم سے زیادہ خطرناک جرم پر خاموشی ہے۔ کیونکہ خاموشی نشے کو طاقت دیتی ہے، طاقت جرم کو روایت بناتی ہے اور روایت نسلوں کو نگل لیتی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی سوال نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں ہمیں جوابدہ ٹھہرائیں گی۔




