دارالحکومت میں سی ایم ایچ فلائی اوور نام نہاد قومی منصوبہ بن گیا
مظفرآباد(خبر نگار خصوصی)آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں واقع سی ایم ایچ فلائی اوور وہ نام نہاد قومی منصوبہ بن چکا ہے جو گزشتہ چھ برس سے تعمیر کے بجائے فائلوں، اجلاسوں اور بیانات کی نذر ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان، سابق قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد اور مجموعی طور پر 11 منتخب اراکین اسمبلی کی موجودگی کے باوجود یہ منصوبہ آج بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ابتدائی طور پر جس منصوبے کو شہری ٹریفک مسائل کے حل کے لیے پیش کیا گیا، وہ آج خود شہریوں کے لیے اذیت، بدنظمی اور سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ منصوبے کو ریوائز کرنے کے لیے محض 16 کروڑ روپے درکار ہیں، مگر چھ سال گزر جانے کے باوجود حکومت اس رقم کا بندوبست کرنے یا منظوری دلوانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سی ایم ایچ فلائی اوور ابتدا ہی سے غیر ضروری تھا، جسے محض سیاسی تشہیر اور کمیشن کلچر کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ نہ منصوبہ مکمل ہے، نہ ختم، اور نہ ہی حکومت اس کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے۔ادھوری تعمیر کے باعث ملحقہ آبادی کو شدید مسائل کا سامنا ہے۔ ٹریفک جام، گرد و غبار، کاروباری نقصان اور حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو یہ منصوبہ مکمل نہیں کرنا تھا تو شروع ہی کیوں کیا گیا؟مظفرآباد کے شہری وزیراعظم آزاد کشمیر اور موجودہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ کہیں بدعنوانی کی بات ہو رہی ہے تو کہیں دانستہ غفلت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔سول سوسائٹی اور شہریوں نے سوال کیا ہے کہ چھ سال میں 16 کروڑ روپے کا بندوبست کیوں نہ ہو سکا؟11 ایم ایل ایز کی موجودگی میں یہ منصوبہ کیوں لاوارث بنا رہا؟اگر منصوبہ غیر ضروری تھا تو قومی خزانہ کیوں ضائع کیا گیا؟ذمہ دار کون ہے اور اس کا احتساب کب ہو گا؟سی ایم ایچ فلائی اوور آج ترقی نہیں بلکہ نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور سیاسی بے حسی کی علامت بن چکا ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر واضح فیصلہ نہ کیا تو یہ منصوبہ مظفرآباد کی تاریخ میں ایک اور ناکام سرکاری تجربے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔جس کا بوجھ ہمیشہ عوام نے ہی اٹھانا ہے۔



