
ہٹیاں بالا (بیورورپورٹ)جہلم ویلی کے علاقہ چھم آبشار میں مردہ حالت میں ملنے والی شادی شدہ نوجوان لڑکی کی موت کے زیادہ تر شواہد قتل کیے جانے کے سامنے آنے،چار روز گذرنے کے باوجود، ورثاء مبینہ طور شدید دباؤ کے باعث قتل کا مقدمہ درج کروانے سے انکاری،جبکہ پولیس بھی سرکار کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بن گئی،عوامی حلقوں کاشدید غم وغصہ کا اظہار،وزیر اعظم،آئی جی اور چیف سیکرٹری سے واقعہ کا نوٹس لینے اورسرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق چناری کے ملحقہ علاقہ چھم کی رہائشی شادی شدہ نوجوان لڑکی شائستہ بی بی زوجہ ماجد حسین گجر ساکن چھم جمعہ کے روز مردہ حالت میں چھم آبشار سے ملی،تھانہ پولیس چناری نے واقعہ مشکوک پاتے ہوئے ورثاء کے انکار کے باوجود نعش کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہٹیاں بالا سے پوسٹمارٹم کروایا،ذمہ دار زرائع کے مطابق لڑکی کی موت خودکشی سے نہیں ہوئی،اس کے سر میں ایک چوٹ تھی باقی تمام ہڈی پسلی سلامت حالت میں تھی،اگر لڑکی چھم آبشار سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرتی تو سیکڑوں فٹ بلندی سے چٹانوں پر گر کر اس کی ہڈی،پسلیاں ٹوٹ جاتیں،اور نہ ہی لڑکی پانی میں ڈوبنے کے باعث ہلاک ہوئی ہے،مبینہ طور پر لڑکی کو سر میں کوئی چیز مار کر قتل کیا گیا اور بعد ازاں اسے چھم آبشار میں پھینکا گیا،زرائع کے مطابق لڑکی کے غریب ورثاء پر بااثر افراد نے مبینہ طور پر قانونی کارروائی نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے علاوہ پولیس کو بھی کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک رکھا ہے،عوامی حلقوں نے وزیر اعظم،چیف سیکرٹری اور آئی جی آزاد کشمیر سے واقعہ کا فوری نوٹس لینے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے اعلی سطحی انکوائری کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے،تانکہ اصل حقائق سامنے آپائیں۔۔۔۔۔۔۔




