مظفرآباد
راڑہ جیل قیدی ٹک ٹاکر بن گئے منشیات فروشی کا بھی انکشاف
مظفرآباد (محاسب نیوز) راڑہ جیل مظفرآباد اڈیالہ بن گئی، جرائم کی منصوبہ بندی قانون کی چھتری تلے ہونے کاانکشاف، قانون بے خبر، میڈیا نے کئی بار ارباب اختیار کی توجہ مبذول کروائی تاہم جیل خانہ جات کی جانب سے ایسی کسی بھی کاروائی میں جیل انتظامیہ کی غفلت نہ ہونے کی پریس ریلیز شائع کروا کر مٹی پاؤ اور مال بناء مہم عروج پر رہی اور ہے، پولیس آفیسران جو موبائل استعمال کرتے ہیں کیا جیل مظفرآباد میں سنگین نوعیت کے مقامات میں قید ملزمان جو جیل کے اندرٹک ٹاکربنے ہوئے ہیں ان کی نظروں سے کیوں اوجھل رہتی ہیں ایسی ویڈیوز شاید پولیس آفیسران کے موبائل پر ایسے ٹک ٹاکر کی ویڈیوز نظر نہیں آتیں، معتبر ذرائع کے مطابق جیل میں شہزادی شاہ کے علاوہ دیگر خطرناک قیدی بھی مختلف وارداتوں میں ملوث ہیں اور قید کاٹنے کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار سمیت دیگر راستے کے کانٹے نکالنے میں مصروف ہیں مگر پولیس خاموش تماشائی ہے، آئی جی پولیس آزاد کشمیر کے لئے نیٹ ورک کو توڑنے کی تاحال کوئی کوشش یا حکمت عملی سامنے نہ آسکی اور نہ ہی جیل میں موبائل سہولیات فراہم کرنے والے پولیس اہلکاروں کیخلاف کوئی کاروائی ممکن ہو سکی ہے، پولیس کی بے حسی اور خاموش تماشائی انداز سے راڑہ جیل مظفرآباد خطہ کو سنگین نوعیت کے جرائم کی طرف دھکیلنے کی منصوبہ بندی کا گڑھ بن چکا ہے، مذید لاپرواہی کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیائع کابھی اندیشہ ہے، رپورٹ کے مطابق راڑہ جیل جس میں انتہائی سنگین جرائم میں ملوث ملزمان و مجرمان سزاء کاٹ رہے ہیں اور کیس کا ٹرائل کررہے ہیں تاہم انھوں نے جیل کے اندر منشیات کااستعمال اورجیل کے باہر بڑے پیمانے پر کاروبار شروع کیے ہوئے ہے، چھتر کلاس پولیس تھانہ کی جانب سے ایک مچھلی گرفت میں آنے پر کچھ انکشافات سامنے آئے ہیں تاہم ابھی سنسنی خیز انکشافات پولیس کی کارکردگی کا بھی پول کھولے منتظر ہیں، سول سوسائٹی نے ارباب اختیار سے سوال کیا ہے کہ جیل میں قیدی کو گناہوں کی سزاء بھگتنے کے لئے بھیجا جاتا ہے اورجیل کے اندر بیٹھ کر قیدی سرحد پار سے کاروبار کرنا شروع کردے تو پولیس کا فرض سوالیہ نشان بن چکا ہے جس کی وہ تنخواہ وصول کررہے ہیں ایسے حالات میں پولیس ہرطرح سے ان کریمنل عناصر کے ساتھ تعاون میں شریک ہے اور منشیات کا کاروبار لین دین کے بدولت کروارہی ہے، موجودہ حالات کے مطابق ایسے ملزمان جب رہا ہونگے تو وہ جیل کے اندر بیٹھے بیٹھے کروڑو پتی بن چکے ہونگے، اگر شفاف تحقیقات کی جائیں تو جیل انتظامیہ کو بھی نوکری سے ہاتھ دھو کر جیل کی ہوا کھانی پڑے تاہم آئی جی پولیس آزاد کشمیر جو کہ تاحال خاموش تماشائی ہیں اور ان کی پولیس فورس کیا کررہی ہے آفیسران بالا باخبر ہو کر بے خبر کیوں ہیں یہ تمام تر سوالات وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیر قانونی، آئی جی پولیس کے لئے اہمیت کے حامل ہیں۔





