پاکستان آج ایک ایسے نازک، پیچیدہ اور کثیر جہتی دور سے گزر رہا ہے جہاں قومی سلامتی کا تصور محض فوجی تیاریوں، سرحدی دفاع یا روایتی جنگی حکمت عملیوں تک محدود نہیں رہا۔ یہ اب ایک جامع ریاستی وژن کا نام بن چکا ہے جس میں داخلی استحکام، معاشی خود انحصاری، سفارتی توازن، معلوماتی جنگ کا مؤثر جواب، سائبر سیکیورٹی، سماجی ہم آہنگی اور قومی بیانیہ کی تشکیل جیسے عناصر بنیادی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ عالمی جغرافیائی سیاست میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیاں، خطے میں نئی طاقت کی صف بندی، ہائبرڈ وارفیئر کی بڑھتی ہوئی شدت، دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی تنظیم نو اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں نے پاکستان کی سلامتی کو ایک ایسے مرحلے میں داخل کر دیا ہے جہاں دفاعی سوچ کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
2025 اور 2026 کے ابتدائی مہینوں میں پاکستان کو درپیش خطرات کی نوعیت اور شدت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مغربی سرحد پر شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں کی کارروائیاں، شہری مراکز میں سکیورٹی چیلنجز، حساس تنصیبات پر حملوں کی کوششیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پروپیگنڈہ نے یہ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ قومی سلامتی اب صرف عسکری قوت کا معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ انٹیلی جنس، سفارت کاری، معاشی استحکام، سیاسی ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی کا ایک مربوط اور ہم آہنگ نظام ہے۔
2025 میں پاکستان نے مغربی سرحد پر متعدد کراس بارڈر آپریشنز کیے، جن میں اکتوبر کے مہینے میں کابل، خوست، جلال آباد اور پکتیکا میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملے شامل ہیں۔ یہ اقدامات افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی اور طالبان حکومت کی جانب سے انہیں روکنے میں ناکامی کے نتیجے میں اٹھائے گئے۔ بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی ”آپریشن ہیروف 2.0” جیسی کارروائیوں نے صوبے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جہاں فروری 2026 میں متعدد حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ یہ واقعات نہ صرف داخلی سلامتی کو چیلنج کر رہے ہیں بلکہ سی پیک جیسے منصوبوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
اسی تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت انتہائی اہم اور تاریخی ہے۔ دسمبر 2025 میں 27ویں آئینی ترمیم کے تحت انہیں پاکستان کی تاریخ کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) مقرر کیا گیا، جو ان کی بطور چیف آف آرمی سٹاف (COAS) خدمات کے ساتھ تینوں مسلح افواج پر یکساں قیادت فراہم کرتا ہے۔ یہ تقرری نہ صرف عسکری قیادت کے تسلسل اور ادارہ جاتی استحکام کی ضمانت ہے بلکہ جدید دور کی جنگ کے تقاضوں کے مطابق تینوں سروسز میں ہم آہنگی اور مربوط حکمت عملی کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عالمی فورمز پر واضح کیا ہے کہ جدید دور میں معیشت، معلومات، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر ڈیفنس اور بیانیہ بھی قومی سلامتی کے ناگزیر عناصر بن چکے ہیں۔ ان کا یہ موقف کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کو اپنی سلامتی کا لازمی جزو سمجھتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون کو ترجیح دیتا ہے، ایک وسیع تر دفاعی اور تزویراتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
موجودہ دور میں ادارہ جاتی ہم آہنگی کو دفاعی حکمت عملی کا مرکزی ستون بنایا جا رہا ہے۔ مسلح افواج کے درمیان مشترکہ منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجیز جیسے AI، ڈرونز، سائبر ڈیفنس سسٹمز اور انٹیلی جنس کا فوری تبادلہ طویل المدتی اسٹریٹجک وژن کا حصہ بن چکے ہیں۔ آپریشن عزمِ استحکام جیسے اقدامات کے تحت نہ صرف فوری ردعمل بلکہ مستقبل کے خطرات کا پیشگی سامنا کرنے کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ بھی اس حکمت عملی کا اہم جزو ہے۔ شدت پسند گروہوں کی ڈیجیٹل بیانیہ سازی، سرحد پار پناہ گاہیں اور سوشل میڈیا پر انتہا پسندی کی پروموشن نے چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عسکری قیادت کا زور صرف آپریشنل کارروائیوں پر نہیں بلکہ ایک متحد، ریاستی رٹ پر مبنی قومی بیانیہ تشکیل دینے پر ہے تاکہ پورا معاشرہ انتہا پسندی کے خلاف ایک صف میں کھڑا ہو سکے۔
پاکستان کے معروضی حالات، افغانستان کی غیر یقینی صورتحال، مشرقی سرحد پر کشیدگی اور پڑوسی ممالک سے درپیش خطرات تقاضا کرتے ہیں کہ سیاسی، سفارتی، معاشی اور تزویراتی پالیسیوں میں مکمل ہم آہنگی ہو۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ ریاستی قیادت نے اس ضرورت کو بھرپور طور پر تسلیم کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت کے درمیان پالیسی سطح پر بے مثال ہم آہنگی ریاستی استحکام کی سب سے مضبوط ضمانت بن چکی ہے۔ یہ ہم آہنگی دراصل اس حقیقت کی مظہر ہے کہ آج ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایک ہی سمت میں پیش قدمی کر رہا ہے۔
قومی یکجہتی کے اس بیانیے میں میاں محمد نواز شریف کی سیاسی بصیرت، تدبر اور طویل تجربہ ریاستی فیصلوں کو وسیع تر تناظر فراہم کرتے رہے ہیں۔ حساس مراحل پر بھی ان کا اعتماد ادارہ جاتی تسلسل اور استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی سیاسی زندگی قومی مفادات، جمہوریت کی بالادستی اور ریاستی استحکام کی قربانیوں کی زندہ مثال ہے۔
خطے میں طاقت کے بدلتے معادلات کے ساتھ حالیہ سفارتی کامیابیاں، دفاعی تعاون اور معاشی سفارت کاری اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی سلامتی کو علاقائی استحکام کے ساتھ جوڑ کر دیکھ رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں یہ سوچ مزید فعال اور مؤثر ہو چکی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی 2022-2026 کی روح بھی یہی ہے کہ معاشی سلامتی کو مرکزی حیثیت دی جائے اور جیو اکنامک وژن کے ذریعے جیو اسٹریٹجی کو سپورٹ کیا جائے۔
یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مضبوط دفاع کا انحصار داخلی استحکام پر ہے۔ سیاسی ہم آہنگی، معاشی ترقی، سماجی یکجہتی، ووٹ کی طاقت اور آئینی تسلسل ہی دفاعی کوششوں کو پائیدار بناتے ہیں۔ آج قومی سطح پر جمہوریت، برداشت اور مکالمہ کو ریاستی قوت کا سرچشمہ قرار دیا جا رہا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کو درپیش کثیر جہتی چیلنجز پیچیدہ اور سنگین ضرور ہیں مگر موجودہ سیاسی، سفارتی اور عسکری قیادت کی تاریخ ساز ہم آہنگی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ریاست اپنے بنیادی مفادات پر مکمل یکسو ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی CDF اور COAS کی حیثیت میں ہمہ جہتی قیادت، سیاسی حکومت کی بھرپور مشاورت، معاونت اور یکجہتی نے قومی سلامتی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔
یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو موجودہ خطرات سے محفوظ رکھتے ہوئے ایک مستحکم، باوقار، معاشی طور پر مضبوط اور جمہوری ریاست کے طور پر آگے بڑھنے کی ضمانت دے گا۔
پاکستان زندہ باد!



