مظفرآباد
تیاریاں،عروج پر، کارکنان کنونشن کامیابی میں مثبت کردار ادا کریں،سردارعتیق
مظفرآباد(محاسب نیوز)صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نیآل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس 1932 سے لے کر آج تک اپنے نظریے اور عقیدت کی بنیاد پر ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی خدمت کیلئے کوشاں رہی ہے،آل،جس کی بنیاد نظریہ الحاق پاکستان ا ور کشمیر بنے گا پاکستان ہے، اور تحریک الحاق پاکستان بنیادی طور پر تحریک تکمیل پاکستان ہے، اُمید ہے کہ مظفرآباد کا ورکرز کنونشن ریاستی تاریخ کا بڑا کنونشن ہونے جا رہا ہے، یہ کوئی عوامی جلسہ نہیں ہے، بلکہ ورکرز کنونشن ہے جس میں صاحب الرائے نوجوانوں، خواتین، ٹریڈرز، وکلاء اور طلبہ کو اس میں شامل کرنا چاہتے ہیں، مسلم کانفرنس ریاستی تاریخ ورثہ ہے جس کو ہم سب سنبھال کر چل رہے ہیں، مسلم کانفرنس کو سیٹوں کی تعداد سے جانچنے اور پرکھنے کی ضرورت نہیں ہے،مسلم کانفرنس کو پارلیمانی تعداد سے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، ان خیالات کااظہار صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے ورکرز کنونشن کے حوالے سے پارٹی عہدیداران، کارکنان اور ریاستی عوام کے نام جاری پیغام میں کیا، انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس کو اپنے نظریات کردار سے دیکھنے کی ضرورت ہے، مجاھد اول سردار عبدالقیوم خان کے نزدیک نظریاتی کردار ریاست جموں و کشمیر کے عوام غیر مشروط طور پر پاکستان کے ساتھ وابستہ ہیں، اور اس تحریک کو لے کر آگے چل رہے ہیں،یہ جو ورثہ آپ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے یہ عظیم لوگوں کا ورثہ ہے، ریئس الاحرار چوہدری غلام عباس اور مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کے ساتھیوں کا ورثہ ہے،مظفرآباد ڈویژن نظردوڑایں تواس تاریخ میں جو بڑے نام ملیں گے، معتبر نام، معزز، قابل قدر، قابل فخر نام ملیں گے جوتاریخ میں زندہ ہیں یہ ان لوگوں کو ورثہ ہے، اس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ عظیم ورثہ آپ اور ہمارے ہاتھوں میں موجودہے، آج مسلم کانفرنس کا کارکن مشکل اور تنگی کے ساتھ سال ہا سال سے اپوزیشن میں ہے، لیکن ریاست جموں وکشمیر کے تشخص پر اور ریاست جموں وکشمیر کے اندر پاکستان کے تشخص پر پہرہ دے رہا ہے، اور غیر مشروط طور پر پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے، مظفرآباد ڈویژن میں کشمیر بنے پاکستان کنونشن اپنے مقاصد کے اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے، پارٹی عہدیداران وکارکنان اس کنونشن میں کامیاب بنانے کیلئے اپنامثبت کردار ادا کریں، اور اس عزم کااعادہ کریں کہ ریئس الاحرار چوہدری غلام عباس سے لے کر غازی ملت سردار ابراہیم خان، سردار سکندر حیات خان،مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان اور راجہ محمد حیدر خان سمیت تمام لوگوں کی کاوشوں کو آگے لے کر چلنا ہے، ہر محاذ پر پہرہ دینا ہے، مجاہداول سردار عبدالقیوم خان نے کہا تھا کہ ہم حق پر ہیں اور حق کے راستے پر چلتے ہوئے اگر ہمارا قیمہ قیمہ ہو جائے، تکہ بوٹی ہو جائے تو یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے، ہم کبھی اس سے دستبردار نہیں ہو سکتے، اس لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی اور ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق اور کشمیری قوم کا حق خودارادیت کا حصول اور ریاست جموں و کشمیر استصواب رائے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حصول تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی، مانسہرہ، عباس پور، راولاکوٹ، باغ، میرپور، سماہنی سمیت وادی کے حلقہ جات میں ورکرز کنونشن کا انعقاد ہونے جا رہے ہیں، سابق وزیراعظم سردارعتیق احمد خان نے کہا کہ تاریخ کے سنہری اوراق پلٹ کر یاد کروانا چاہتا ہوں کہ جس میں آپ کے آباؤ اجداد نے ہمیشہ زندہ ہیں،زندہ رہیں گے، اور جو ان کا ورثہ سنبھالیں گے وہ بھی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے،ہمارے لیے سب قابل احترام ہیں، انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس کے کارکنان تاریخ کے اس ورثہ کے وارث ہے، مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کے ساتھیوں، اکابرین کا جب بھی ذکر کریں گے تو قیمتی لوگوں کے نام آتے ہیں، جن میں مظفرآباد ڈویژن کے علی خان چغتائی، سردار حمید اللہ خان،حاجی پیر سکندر شاہ،سردار رحمت اللہ خان چغتائی،حاجی عنایت اللہ،سردار حیدر خان، سردار عبدالرشید عباسی،غلام حسن حیدری، سردارنذیر خان،عبدالستار، خواجہ عبدالستار، راجہ گل مجید، میر زمان اعوان،پیر حسام الدین گیلانی،راجہ حیدر خان، بیگم راجہ حیدر خان، راجہ لطیف خان، حاجی عثمان،ملک غلام علی، محمد علی کنول، حبیب اللہ میر،عثمان ترمبو، ممتاز گیلانی، خواجہ ولی محمد، چوہدری شمس دین، راجہ عبدالحمید خان، ملک غلام علی، میر بشیر، شیر کوٹلہ میر عبدالرحمن، میر اکبر، سردار گل خنداں کے والد قدر آور شخصیت تھے، قمر الدین ہاڑے، ملک یاسین اعوان،سید علی افسر شاہ، منشی حبیب اللہ، منشی محب اللہ اعوان، میاں اسحاق، سردار شیر ولی، راجہ فیروز خان، افضل بٹ شامل ہیں کا ورثہ ہے جو آج تک کسی کے حصہ میں نہیں آیا، یہ مسلم کانفرنس کا ہی ورثہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہے گا، ہم آج فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں جو مشکل وقت میں مسلم کانفرنس کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کا جینا مرنا مسلم کانفرنس کے ساتھ ہی ہے،




