آزاد کشمیر کے آمدہ انتخابات: ابہام، عالمی کشیدگی اور قومی ذمہ داری

دنیا اس وقت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غیر زمہ درانہ پالیسیوں باعث غیر معمولی سیاسی، عسکری اور سفارتی کشیدگی کے ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے یورپ، یوکرین سے غزہ، اور بحرالکاہل سے جنوبی ایشیا تک طاقت کے توازن، اتحادوں اور مفادات کی ازسرِنو تشکیل جاری ہے۔ ایسے حالات میں ریاستیں صرف اپنے داخلی نظم و نسق سے نہیں بلکہ سیاسی استحکام، آئینی تسلسل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سے پہچانی جاتی ہیں۔ پاکستان، الحمدللہ، آج اس مقام پر کھڑا ہے کہ اس کی مسلح افواج کی مضبوط موجودگی اور واضح دفاعی حکمتِ عملی کے باعث کوئی روایتی دشمن، بالخصوص بھارت یا اس کی کسی پراکسی میں یہ جرات نہیں کہ وہ پاکستان یا آزاد جموں و کشمیر کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے نہ صرف بھارت کے غرور و گھمنڈ کو خاک میں ملایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سیاسی، سفارتی اور دفاعی وقار کو بلند کرنے میں بھی مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہی مضبوط سیاسی، سفارتی اور دفاعی فریم ورک پاکستان اور آزاد کشمیر کے لیے ایک محفوظ حصار فراہم کرتا ہے۔
ایسے عالمی و علاقائی حالات میں آزاد جموں و کشمیر کے آمدہ انتخابات محض ایک معمول کا سیاسی مرحلہ نہیں بلکہ ایک آئینی، جمہوری اور اسٹریٹجک تقاضا بن چکے ہیں۔ اگرچہ انتخابات میں چند ہی ماہ باقی ہیں، مگر آزاد کشمیر کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ ابہام گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ آیا یہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے بھی یا نہیں۔ اس صورتحال کی بنیادی ذمہ داری براہِ راست وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور پر عائد ہوتی ہے، جن کا آئینی فریضہ ہے کہ وہ اس ابہام کو دور کریں اور واضح اعلان کے ذریعے جمہوری عمل پر اعتماد بحال کریں۔
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کسی بھی انتخابی عمل کی بنیاد ہوتی ہے، مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ وسط نومبر میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے باوجود جنوری کا تیسرا ہفتہ اختتام کو پہنچ چکا ہے اور اس حوالے سے کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نظر نہیں آتی۔ یہ غیر معمولی تاخیر نہ صرف شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے بلکہ انتخابی عمل کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان بن رہی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر نے انتخابی تیاریوں کے حوالے سے واضح اور عملی پیش رفت کی ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار جماعتی ٹکٹ کے خواہشمند امیدواروں سے دو لاکھ روپے کی بھاری فیس کے ساتھ درخواستیں طلب کی گئیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں الحمدللہ دو سو سے زائد امیدواروں نے جماعتی ٹکٹ کے لیے درخواستیں جمع کروائیں، جو مسلم لیگ (ن) کی تنظیمی قوت، انتخابی سنجیدگی اور عوامی رابطے کا واضح ثبوت ہے۔ پارٹی صدر شاہ غلام قادر اور انکے رفقاء کی سیاسی سرگرمیاں اس امر کی واضح غماز نظر آتی ھیں کہ وہ انتخابی عمل میں کس قدر سنجیدہ اور متحرک ھیں۔
اس کے برعکس حکمران جماعت سمیت کسی دوسری سیاسی جماعت نے نہ تو اس سطح کا کوئی عمل مکمل کیا اور نہ ہی انتخابی تیاریوں کا باضابطہ آغاز دکھائی دیتا ہے۔
انتخابی عمل پر شکوک کی ایک اور بڑی وجہ پیپلز پارٹی کی حکمران جماعت اور بالخصوص وزیر اعظم آزاد کشمیر کا چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے میں غیر واضح اور مشکوک طرزِ عمل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ اور حکومت آزاد جموں و کشمیر کے مابین بڑھتا ہوا تعطل بھی انتخابی فضا کو مزید غیر یقینی بنا رہا ہے، جو کسی بھی صورت ایک مثبت علامت نہیں۔
یہ امر بھی ریکارڈ پر ہونا چاہیے کہ وفاقی حکومت نے شروع دن سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو غیر معمولی اہمیت دی۔ آٹے اور بجلی کی سبسڈی سے لے کر گزشتہ ستمبر اور اکتوبر کی تحریک کے دوران مذاکرات، فیصلوں اور عملی اقدامات تک، وفاقی حکومت نے اہلِ آزاد کشمیر کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ حتیٰ کہ صحت کارڈ کا اجرا، جو ابتدا میں حکومت آزاد جموں و کشمیر کے بجٹ سے پریمیم کی ادائیگی سے مشروط تھا، وفاقی حکومت نے اسلام آباد کیپیٹل ٹریٹری کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو شامل کرتے ہوئے اپنے بجٹ سے ممکن بنایا۔ اس اقدام کا کریڈٹ بلا شبہ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کو جاتا ہے، جنہوں نے آئی ایم ایف کی سخت مالی پابندیوں اور مالی مشکلات کے باوجود آزاد کشمیر کے عوام کے لیے یہ اہم سہولت یقینی بنائی۔
اسی تسلسل میں یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک اہم مطالبے، یعنی مہاجرینِ مقیمِ پاکستان کی نشستوں کے خاتمے کے ایشو پر وفاقی حکومت کی جانب سے ایک مجوزہ کمیٹی قائم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اس ضمن میں پیش رفت میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ خود ایکشن کمیٹی کا عدم تعاون اور سخت گیر رویہ بھی رہا ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کو اس مرحلے پر اپنے رویوں اور ضد میں قدرے نرمی دکھانی چاہیے تاکہ یہ تاثر تقویت نہ پکڑ سکے کہ حکومتِ وقت اور ایکشن کمیٹی دونوں دانستہ یا نادانستہ طور پر انتخابات کے التوا کی کسی ممکنہ سازش میں ایک دوسرے کے مددگار بن رہے ہیں۔
بروقت انتخابات نہ صرف وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں بلکہ یہ ایک آئینی و قانونی عمل کا لازمی حصہ بھی ہیں۔ جمہوری نظام میں انتخابات کا التوا ریاستی کمزوری، سیاسی بے یقینی اور عوامی بداعتمادی کو جنم دیتا ہے، جو کسی بھی طور آزاد کشمیر جیسے حساس اور اسٹریٹجک خطے کے مفاد میں نہیں۔
آخر میں یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آزاد جموں و کشمیر محض پینتالیس یا پچاس لاکھ آبادی پر مشتمل کوئی عام خطہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی سلامتی، دفاعی حکمتِ عملی اور نظریاتی استحکام کا بنیادی ستون ہے۔ جنوبی ایشیا میں قیامِ امن کا دارومدار بھی اسی خطے کے سیاسی استحکام، جمہوری تسلسل اور آئینی مضبوطی پر ہے۔ آزاد کشمیر کی حیثیت کو کم کرنے یا اس کے جمہوری تشخص کو کمزور کرنے کی کوئی بھی درپردہ کوشش درحقیقت پاکستان کے دفاعی اور نظریاتی مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ آزاد جموں و کشمیر پاکستان کا دفاعی حصار بھی ہے اور نظریاتی استحکام کی علامت بھی، اور اسی لیے یہاں بروقت، شفاف اور غیر متنازع انتخابات محض سیاسی تقاضا نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہیں۔وزیراعظم آزاد کشمیر کو ھوائی و خلائی اعلانات پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے فوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کا پینل وزیراعظم پاکستان کو بھجوانا چاہیے تاکہ فوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کا تقرر میں آسکے اور حکومت آزاد کشمیر کو ایکشن کمیٹی سے بھی آن بورڈ ھونا چاھیے۔ ایکشن کمیٹی کی قیادت اور انکے پس پشت ھمدردوں کو بھی اسکا بخوبی ادراک ھونا چاھیے۔ کہ انکی کاوشیں جہاں مسلمہ طور پر عوامی اعتماد کی عکاس رہی ھیں وھاں ان پر الیکشن کے التوا کا داغ انکی مقبولیت کی کمی کا موجب بھی ھو سکتا ھے۔




