
کچھ نام محض افراد نہیں ہوتے، وہ تاریخ کی سانس ہوتے ہیں۔ کچھ گھرانے صرف خاندان نہیں ہوتے، وہ نظریے کی امانت ہوتے ہیں۔ وادی? نیلم کے عظیم سپوت، تحریکِ آزادی کے سرخیل،بانی تحریک آزادی کشمیر مجاہدِ اوّل سردار محمد عبدالقوم خانؒ کے قریبی اور نظریاتی ساتھی، افضل بٹ مرحوم کا نام بھی انہی روشن ناموں میں شامل ہے جنہوں نے خونِ دل سے چراغِ وفا جلائے اور وقت کی پیشانی پر اپنا نام ثبت کر دیا۔
آج اسی چراغ کی لو ایک بار پھر تیز ہوئی ہے۔
”عابد عندلیب بٹ ” شاعر بھی، ادیب بھی، صحافی بھی اور ایک باشعور، پڑھے لکھے نوجوان کا آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیار کرنا محض ایک سیاسی اعلان نہیں، بلکہ تاریخ کے تسلسل کی ایک معنی خیز گواہی ہے۔ یہ شمولیت اس بات کا اعلان ہے کہ نظریے مرتے نہیں، وہ نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں؛ اور جب وقت پکارے تو اپنے وارثوں کے ہاتھوں پھر زندہ ہو جاتے ہیں۔
شمولیت نہیں، تاریخ کا اعلان ہے
سوئی ہوئی تحریک کا پھر سے یہ ارمان ہے
جن گھروں نے دی ہیں قربانیاں نظریے پر
انہی ہاتھوں میں ابھی پرچمِ پاکستان ہے
”کشمیر بنے گا پاکستان ورکرز کنونشن” جو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے زیر اہتمام منعقد ہوا، اس اعتبار سے تاریخی حیثیت اختیار کر گیا کہ اسی پلیٹ فارم سے ایک نظریاتی وارث نے اپنے باپ کے ادھورے خوابوں کو پھر سے تھام لیا۔
جن لہو سے راستے بنتے رہے آزادی کے
وہی پرچم لیکر پھر اٹھے وارث نئی بستی کے
باپ نے جو خواب بوئے سنگ زاروں میں کبھی
بیٹے نے آ کر انہیں تعبیر کی مٹی دی
عابد عندلیب بٹ کی شمولیت مسلم کانفرنس کے لیے بارش کے پہلے قطرے کی مانند ہے۔ وہ قطرہ جو بنجر زمین کو امید دیتا ہے اور سوئی ہوئی فصلوں کو بیدار کر دیتا ہے۔
افضل بٹ مرحوم نے جن کٹھن اور آزمائشی حالات میں مجاہدِ اوّلؒ اور مسلم کانفرنس کا ساتھ دیا، آج ہمیں پورا یقین ہے کہ عابد عندلیب بٹ بھی اسی خلوص، اسی وابستگی اور اسی نظریاتی استقامت کے ساتھ جماعت کی مضبوطی، استحکام اور نظریے کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ یہ شمولیت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ نظریہ? الحاقِ پاکستان اور ریاستی تشخص کی محافظ جماعت آج بھی اپنے اصل وارثوں کو اپنی جانب کھینچنے کی قوت رکھتی ہے۔
شمولیت نہیں، تاریخ کا اعلان ہے
سوئی ہوئی تحریک کا پھر سے یہ ارمان ہے
جن گھروں نے دی ہیں قربانیاں نظریے پر
انہی ہاتھوں میں ابھی پرچمِ پاکستان ہے
عابد عندلیب بٹ نے بطور شاعر و ادیب لفظ کو ہتھیار بنایا، بطور صحافی سچ کی گواہی دی، اور بطور باشعور شہری حق کے لیے آواز بلند کی۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ان کا مؤثر کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اختلاف کو تصادم میں بدلنے کے بجائے مکالمے کے ذریعے ریاست کو مزید لہو لہان ہونے سے بچانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہی وہ شعور ہے جس کی آج مسلم کانفرنس کو ضرورت ہے، اور یہی وہ وصف ہے جو تحریکوں کو نئی جان بخشتا ہے۔
آج جب وہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے قافلے میں شامل ہوئے ہیں تو یہ یقین مزید پختہ ہو گیا ہے کہ وہ مجاہدِ اوّل سردار محمد عبدالقوم خانؒ کے پیغام کو گھر گھر پہنچائیں گے اور تکمیلِ پاکستان کی اس جدوجہد میں اپنے قائد سردار عتیق احمد خان کے دست و بازو بنیں گے۔ یہ شمولیت کارکنانِ مسلم کانفرنس کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ مسلم۔کانفرنس کا revival کوئی خواب نہیں، بلکہ ایک جاری عمل ہے۔ اور یہ عمل اب نئی توانائی، نئے شعور اور نئی امید کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
باپ نے جو شمعِ نظریہ لہو سے روشن کی
بیٹے نے آ کے وہی لو پھر سے فروزن کی
قافلہ رُکا تھا مگر راہ باقی تھی
ایک نام آیا تو تاریخ نے کروٹ لی
عابد عندلیب بٹ کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔یہ شمولیت نہیں، یہ تاریخ کا لوٹ آنا ہے۔




