بینظیر انکم پروگرام ہٹیاں بالا دفتر غریب خواتین کی عزت نفس مجروح کرنے لگا

شاریاں (نمائندہ محاسب)آزاد جموں و کشمیر کے ضلع جہلم ویلی کے مرکزی شہر ہٹیاں بالا میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) غریب خواتین کے لیے سہارا بننے کے بجائے ان کی عزتِ نفس کو روندنے کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ قومی فلاحی منصوبے کے نام پر مستحق خواتین کے ساتھ ہونے والا غیر انسانی، تحقیر آمیز اور ظالمانہ سلوک انتظامیہ کی نااہلی اور حکومتی بے حسی کا کھلا ثبوت ہے مقامی ذرائع اور متاثرہ خواتین کے مطابق امدادی رقوم کی تقسیم کے مراکز پر خواتین کو گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں ذلت آمیز انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شدید سردی، بارش اور نامساعد موسمی حالات میں بزرگ، بیمار اور کمزور خواتین کو قطاروں میں کھڑا رکھنا کسی فلاحی ریاست نہیں بلکہ ظلم کے نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ نہ بیٹھنے کا انتظام، نہ پینے کے پانی کی سہولت اور نہ ہی عملے کے رویّے میں انسانیت کی کوئی جھلک نظر آتی ہے خواتین کا کہنا ہے کہ امداد کے حصول کے لیے بار بار طلب کرنا، غیر ضروری دستاویزات کا مطالبہ، عملے کا تلخ، توہین آمیز اور تحقیر سے بھرپور لہجہ معمول بن چکا ہے۔ بائیو میٹرک ڈیوائسز پر انگوٹھوں کے نشانات نہ لگنے کو بہانہ بنا کر خواتین کو سب کے سامنے ذلیل کرنا، جھڑکنا اور واپس لوٹا دینا قابلِ مذمت ہی نہیں بلکہ کھلی انسانی توہین ہیمتاثرہ خواتین کے مطابق متعدد بار شکایات درج کروانے کے باوجود متعلقہ انتظامیہ اور ضلعی حکام نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یا تو حکام اس نظام کی ناکامی سے باخبر نہیں یا پھر دانستہ آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ یہ خاموشی خود ایک سنگین جرم بن چکی ہے سماجی حلقوں، سول سوسائٹی اور باشعور عوامی نمائندوں نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فوری طور پر بدانتظامی اور غیر انسانی رویّوں سے پاک کیا جائے۔ امدادی مراکز پر عملے کی اخلاقی تطہیر، بائیو میٹرک نظام کی اصلاح، متبادل تصدیقی طریقہ کار اور خواتین کے لیے باعزت ماحول فراہم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے فوری اور غیر جانبدارانہ انکوائری، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خواتین کو فوری ریلیف دینے کا پُرزور مطالبہ کیا ہے۔ بصورتِ دیگر یہ قومی فلاحی منصوبہ غریبوں کے لیے سہارا نہیں بلکہ ریاستی سطح پر ذلت کا استعارہ بن کر رہ جائے گا۔


