کالمزمظفرآباد

رتی جناح پارک کامرہ

پروفیسر ریاض اصغر ملوٹی

کامرہ صوبہ پنجاب میں شیر شاہ سوری کی بنائی گی تاریخی سڑک جی ٹی روڈ جسے جرنیلی سڑک بھی کہا جاتا ہے پر واقع ہے یہ ایک خوبصورت زرخیز گرم میدانی علاقے ہے کامرہ سے صرف چند کلو میٹر آگے اٹک خورد کے مقام پر تاریخ کا مشہور قلعہ اٹک ہے جو مغل بادشاہ اکبر نے تعمیر کرایا تھا جسے دو دفعہ دیکھنے کا موقع ملا اور اس پر کئی اقساط میں گزشتہ سال آپکی خدمت میں آرٹیکل لکھا تھا، اس قلعے کے نزدیک دریائے سندھ اور کابل آپس میں ملتے ہیں اس علاقے میں بڑی اور تاریخی جنگیئں ہوئی ہیں دریا پر پل نہ ہونے سے فوجی لشکر یہاں لازمی رکتے تھے اس وجہ یہاں قدیم دور، صدیاں پہلے پل تعمیر ہوا اکبر بادشاہ نے یہاں پل بنوایا تھا،کابل سے دہلی تک یہی جی ٹی یا جرنیلی سڑک تھی۔ اس علاقے میں دریائے سندھ کے آس پاس سونا پایا جاتا ہے لوگ آج بھی مختلف طریقوں سے نکالتے نظر آتے ہیں۔ اس جی ٹی روڈ پر تاریخ کے مشہور حکمران اور انکی فوجیں آتی جاتی رہیں، کامرہ اور قلعہ اٹک کے درمیان بہت ہی خوبصورت اور وسیع رقبے پر پھیلا آزاد کشمیر ریجمنٹل سنٹر ہے اور یہ بھی ایک پوری تاریخ رکھتا ہے کشمیر میں جہاد آزادی 1947 میں ہمارے قومی ھیروز نے جو سول فوجی یونٹس قائم کی تھی۔ وہ آج باقاعدہ پاک فوج کا حصہ اور اپنی اپنی تاریخ اور قربانیوں کی ایک مکمل داستان رکھتی ہیں جسے اس سنٹر میں محفوظ کیا گیا ہے۔کامرہ ہماری مایہ ناز پاک فضائیہ کا مشہور اور اہم ائیر بیس ہے، عالمی شہرت کا حامل یہ ائیر بیس پاکستان کے دفاع میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے یہاں صرف جنگی ہوائی اڈہ ہی نہیں بلکہ یہاں جے ایف 17 تھنڈر اور دیگر جدید ترین جنگی طیارے بنائے جاتے ہیں، جنگی جہازوں کی ری بلڈ فیکٹری ہے پرانا اور تاریخی ایروناٹیکل کمپلیکس ہے،کامرہ کا یہ وہ قدیم ایئر بیس ہے جہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران جنگی جہاز اترتے تھے اور یہ ایئر بیس برطانیہ نے بنوایا تھا۔ بہت کوشش کے باوجود ہم ائیر بیس نہیں دیکھ سکے یہاں کسی بھی صورت سیولین کو جانے کی اجازت نہیں،بہت کوشش کے بعد ائیر بیس کے علاؤہ دیگر داخلی مقامات دیکھنے کی اجازت ملی، وسیع رقبے پر مشتمل ایئر بیس ہے خوبصورت اور قابل دید عمارات اور سڑکیں بنائی گی ہیں پاکستان میں ا س سے زیادہ صاف ستھرا علاؤہ آج تک میں نے کوئی نہیں دیکھا، میرے بیٹے کیپٹن سعد انکی اھلیہ اور میری اھلیہ بھی ہمراہ تھیں، کئی پوانٹس پر ہماری سیکورٹی چیکنگ کے بعد اندر جانے کی اجازت ملی۔ جی ٹی روڈ سے ہی مین انٹرنس ہے یہ راستہ سیدھا اٹک شہر بھی جاتا ہے کامرہ کی داخلی حدود سے خوبصورت نہر غازی بھروتھا بھی گزرتی ہے جس پر جگہ جگہ آر سی سی پل لگے ہوئے ہیں اس بھرپور نہر میں دریائے سندھ کا صاف و شفاف نیلگوں پانی بہتا ہے آگے ڈیم ہے جہاں سے بجلی پیدا ہوتی ہے اور آبپاشی کی سہولت بھی ہے کامرہ مین گیٹ سے داخل ہونے کے بعد سامنے مغربی سمت خوبصورت بلند پہاڑیاں ہیں جہاں چڑھائی میں دیدہ زیب کنکریٹ کی سیڑھیاں ہیں جو تین بلند پہاڑی چوٹیوں تک پہنچاتی ہیں یہ ایئر فورس انتظامیہ نے خوبصورت پارک بنوایا ہے جسکا چڑھائی میں فاضلہ تین کلو میٹر ہے ایئر وار کالج کی تجویز پر یہ پارک بنایا گیا اسکا پرانا نام کوبرا ہل تھا جدید تعمیر کے بعد اس کا نام قائد اعظم کی بیوی رتن بائی کے نام ” رتی جناح گارڈن” رکھا گیا۔ یاد رہے رتن بائی کا نک نیم رتی جناح بھی تھا۔اس خوبصورت پکنک سپارٹ یا مانومنٹ کا افتتاح ایئر وائیس مارشل فاروق عمر ڈی جی پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس نے 6 اپریل 1989 کو رکھا تھا۔ہم نے مورخہ 25 جنوری 2026 ایک خوبصورت اور خوش گوار دن اسکا وزٹ کیا۔ اور بہت محظوظ ہوئے۔تین کلو میٹر پہاڑی چڑھائی کے سفر میں تھکاوٹ ہو جاتی ہے پورا راستہ سیڑھیوں کے اطراف گھنا جنگل ہے۔ بڑی تعداد مرد خواتین اور بچے آ جا رہے تھے جن کا تعلق آرمڈ فورسز اور نجی فیملیز سے تھا۔ سیولین کو عام حالات یہاں آنے کی اجازت نہیں۔ نظم و ضبط اور صفائی ہر جگہ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اسی ڈسپلن نے ہماری مسلح افواج کو منظم و مضبوط بنایا ہے۔ قائد اعظم کے والد اور والدہ سے بھی منسوب اس طرح کے ادارے بننے چاہئیں۔ہمیں یہ پارک دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔قاریئن محترم قائد اعظم کی دو شادیاں تھیں پہلی شادی ایمی بائی سے کم عمری میں ہوئی 1892 میں شادی ہوئی اور قائد لندن چلے گے پیچھے صرف ایک سال بعد اھلیہ اور والدہ وفات پاگئیں پہلی شادی سے کوئی اولاد نہ تھی دوسری شادی 1918 میں پارسی گھرانے کی رتن بائی عرف رتی سے ہوئی ان ہی کے نام سے منسوب یہ پارک ہے۔ انکا اسلام قبول کرنے کے بعد نام مریم جناح تھا۔ان سے صرف ایک بیٹی ہوئی جس کا نام دینا واڈیا تھا۔پہلی بیوی ایمی بائی آپکی چچا زاد تھیں۔ قائد کی والدہ کانام شریں عرف میٹھی بائی تھا۔ قائد کے تین بھائی،یعنی محمد علی،احمد علی اور بندے علی تھے جبکہ آپکی تین بہنیں تھیں۔قائد کا خاندان شیعہ اثنا عشری تھا۔لیکن قائد نے ساری زندگی خود کو صرف مسلمان ثابت کیا آپ اسلام کے اصولوں اور احکامات پر یقین رکھتے تھے۔ آپکا خاندان گجراتی راجپوت تھا والد پونجا جناح چمڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ قائد اعظم کو قائد اعظم کا خطاب ممتاز عالم دین مولانا مظہر نے 1948 میں دیا تھا۔ قائد اعظم 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور 11ستمبر 1948 فوت ہوئے۔ آپ انتہائی بااصول سچے کھرے اور قانون کے پابند رہنما تھے۔ اللہ تعالیٰ قاید اعظم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائیں۔امین

Related Articles

Back to top button