کالمزمظفرآباد

سیاست کے ساتھ کھلواڑ

سردار وقار نصیر

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں سیاست اب اصولوں کا نام نہیں رہی، بلکہ ایک ایسا کھیل بن چکی ہے جس میں مہرے بدلتے رہتے ہیں اور عوام صرف تماشائی بنے رہتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کے لیے نظریات کو جوتے کی نوک پر رکھا جاتا ہے، اور ضمیر کو وقتی مصلحت کے نام پر قربان کر دیا جاتا ہے۔
ہر سال سیاسی جماعتیں تبدیل کرنا اب کوئی شرمندگی کی بات نہیں رہی، بلکہ اسے سیاسی ذہانت کا نام دے دیا گیا ہے۔ جو راہنما کل تک ایک جماعت کو کرپٹ، ناکام اور ملک دشمن قرار دیتا تھا، آج وہی شخص اسی طرح کی زبان دوسری جماعت کے حق میں استعمال کرتا ہے۔ اگر نظریات اتنے ہی سستے ہیں تو پھر سیاست میں اخلاقیات کی بات محض فریب کیوں نہ سمجھی جائے؟
یہ بار بار کی وفاداریاں بدلنا صرف سیاسی جماعتوں کے ساتھ نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد کے ساتھ بھی کھلواڑ ہے۔ ووٹر جس امید کے ساتھ ووٹ ڈالتا ہے، وہ امید چند مہینوں میں ہی کسی بند کمرے کے فیصلے کی نظر ہو جاتی ہے۔ پھر یہی سیاستدان شکوہ کرتے ہیں کہ عوام سیاست سے کیوں بدظن ہیں۔
سیاسی لوگوں کا نظریات پر سمجھوتہ کرنا سب سے بڑا جرم ہے، کیونکہ نظریہ ہی سیاست کو سمت دیتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں نظریہ موسم کی طرح بدلتا ہے۔ کبھی اسٹیبلشمنٹ کا سہارا، کبھی جمہوریت کا نعرہ، اور کبھی عوامی خدمت کا دعویٰ—سب کچھ صرف اقتدار کے حصول تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
دنیا کی مہذب جمہوریتوں میں پارٹی بدلنا ایک غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں یہ معمول بن چکا ہے۔ یہاں اصول نہیں دیکھے جاتے، نمبر گنے جاتے ہیں۔ یہاں وفاداری نہیں، اکثریت دیکھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست کمزور اور ریاست غیر مستحکم نظر آتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ جب تک سیاست کو ذاتی کاروبار سمجھا جاتا رہے گا، اور جماعتیں نظریے کے بجائے electables کے سہارے چلتی رہیں گی، تب تک کوئی حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔ سیاستدانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام اب سب کچھ دیکھ اور سمجھ رہے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سیاست کو تماشہ بنانے والوں سے سوال کیا جائے۔
کیا سیاست واقعی خدمت ہے، یا صرف اقتدار تک پہنچنے کا شارٹ کٹ؟
از قلم
سردار وقار نصیر

Related Articles

Back to top button