کالمزمظفرآباد

سانحہ بھاٹی گیٹ کافی نہیں؟

تحریر؛امتیازعلی شاکر،لاہور

یہ محض ایک شکایت نہیں، ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ ایک ایسا سوال ہے جو ہر ذمے دار شہری،ہر منتخب نمائندے اور ہر بااختیار ادارے کے ضمیر پر دستک دے رہا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے پی پی 163، یو سی 244، گجومتہ لاہور میں زیرِ تعمیر آہلو روڈ پر سڑک کے عین درمیان مین ہول بغیر ڈھکن کے موجود ہے۔ یہ مین ہول کسی پوشیدہ گلی میں نہیں، کسی ویران مقام پر نہیں، بلکہ ایک مصروف سڑک پر، روزانہ ہزاروں شہریوں کی آمد و رفت کے بیچ کھلا پڑا ہے، جیسے کسی بڑے سانحے کا خاموش انتظار کر رہا ہو۔یہ مین ہول جیسے سوال کر رہا ہو کہ اب کس کی باری ہے؟ کسی بچے کی، جو کھیلتے ہوئے بے خبری میں اس میں جا گرے؟ کسی بزرگ کی، جو کمزور آنکھوں اور سست قدموں کے ساتھ زندگی کا بوجھ اٹھائے چل رہا ہو؟ یا کسی عورت کی، جو روزمرہ کی مصروفیات میں اس خطرے کو دیکھ نہ سکے؟ کیا ہم واقعی اسی لمحے کے منتظر ہیں جب کوئی جان ضائع ہو، کوئی ماں بیٹے سے محروم ہو، کوئی خاندان عمر بھر کا صدمہ سمیٹ لے؟
سانحہ بھاٹی گیٹ ابھی ہماری اجتماعی یادداشت سے محو نہیں ہوا۔ وہ زخم ابھی تازہ ہیں، وہ چیخیں ابھی فضا میں معلق ہیں، وہ سوال ابھی بے جواب ہیں۔ کیا ہم ایک اور ایسے ہی سانحے کے منتظر ہیں تاکہ پھر تحقیقات ہوں، کمیٹیاں بنیں، بیانات آئیں اور چند دن بعد سب کچھ فراموش کر دیا جائے؟ کیا کسی انسانی جان کی قیمت اتنی کم ہے کہ اس کی حفاظت کے لیے ایک سادہ سا مین ہول ڈھکن بھی مہیا نہ کیا جا سکے؟آہلو روڈ، جو کہ ایم سی ایل کی نگرانی میں زیرِ تعمیر ہے، پچھلے پانچ ماہ سے انتہائی سست روی کا شکار ہے۔جگہ جگہ کھڈے شہریوں کی آزمائش بن چکے ہیں، اور کئی مین ہول کھلے پڑے ہیں۔ دن کے وقت بھی یہ صورتحال خطرناک ہے اور رات کے وقت تو یہ راستہ موت کے کنوؤں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار، رکشے، گاڑیاں، پیدل چلنے والے۔سب ہی اس لاپرواہی کی بھینٹ چڑھنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔یہ سوال اب صرف ترقیاتی کام کی رفتار کا نہیں، بلکہ نیت، ترجیح اور احساسِ ذمے داری کا ہے۔ ایک منصوبہ شروع کیا جاتا ہے تو کیا اس کی تکمیل تک عوام کو بنیادی تحفظ دینا متعلقہ اداروں کی ذمے داری نہیں؟ کیا تعمیر کے دوران حفاظتی اقدامات، انتباہی نشانات، عارضی بندوبست اور بروقت نگرانی کوئی غیر معمولی مطالبہ ہے؟اہلِ علاقہ کئی بار توجہ دلا چکے ہیں، مگر خاموشی ہے کہ ٹوٹتی نہیں۔ یہ خاموشی صرف اداروں کی نہیں، یہ ایک اجتماعی بے حسی کی علامت ہے۔ ایک ایسا رویہ جس میں حادثے کے بعد افسوس تو کیا جاتا ہے پر حادثے سے پہلے احتیاط کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔محترمہ وزیراعلیٰ پنجاب! آپ سے عوام کو امید ہے۔ آپ کی قیادت کو اس لیے سراہا جاتا ہے کہ آپ مسائل کو سنتی ہیں، دیکھتی ہیں اور ان پر عمل بھی کرواتی ہیں۔ آہلو روڈ کی موجودہ حالت آپ کی توجہ کی منتظر ہے۔ یہ کوئی سیاسی نعرہ نہیں، کوئی وقتی مطالبہ نہیں، بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا سوال ہے۔
اہلِ علاقہ کی آپ سے پرزور اپیل ہے کہ آہلو روڈ کی صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ منصوبے کی رفتار تیز کی جائے، معیار کو یقینی بنایا جائے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تمام کھلے مین ہول فوری طور پر بند کیے جائیں، سڑک پر موجود خطرات ختم کیے جائیں اور ضروری حفاظتی اقدامات اختیار کیے جائیں۔ تاکہ کوئی ماں اپنے بچے کو اسکول بھیجتے ہوئے خوف زدہ نہ ہو، کوئی بزرگ سڑک پار کرتے ہوئے لرزتا نہ ہو، اور کوئی شہری یہ دعا نہ کرے کہ وہ آج بحفاظت گھر لوٹ آئے۔
کیونکہ ترقی وہی ہے جس میں انسان محفوظ ہو، اور حکمرانی وہی ہے جو حادثے کے بعد نہیں، حادثے سے پہلے جاگ جائے۔اورکیاسانحہ بھاٹی گیٹ انتظامیہ کاضمیرجگانے کیلئے کافی نہیں؟

Related Articles

Back to top button