جامعہ تعلیم القرآن والبنات ہٹیاں بالا میں مدارس دینیہ کانفرنس
ہٹیاں بالا (بیورورپورٹ)جہلم ویلی میں علوم اسلامیہ کی معروف دینی درسگاہ جامعہ تعلیم القرآن للبنین والبنات ہٹیاں بالا میں سالانہ اختتام صحیح بخاری شریف و خدمات مدارس دینیہ کانفرنس زیر سر پرستی مولانا،ہروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی منعقد ہوئی،جسمیں سابق وزیر،سینیٹر حافظ حمد اللہ، شیخ الحدیث مولانا قاضی مشتاق احمد سمیت آزاد کشمیر بھر سے علماء کرام، حفاظ کرام اور عوام کی بھر پور شرکت، پروقار تقریب کے دوران جامعہ تعلیم القرآن للبنین و للبنات المصطفیٰ ہٹیاں بالا میں اٹھائیس خوش نصیب طالبات کی چادر پوشی،گیارہ حفاظ کرام کی دستار بندی اور دو علماء کرام کی تکمیل بخاری شریف بھی کی گئی، طالبات کی چادر پوشی کی تقریب میں ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی محترمہ بینش جرال اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نسواں محترمہ صائمہ نذیر عباسی نے خصوصی شرکت کی اور طالبات کی دینی محنت کو سراہااس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر، سینیٹر مولانا حافظ حمداللہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیاستدان، سپہ سالار اور امام بھی تھے،علماء سیاست میں نہیں آئیں گے تو چو،ر ڈاکو اور قاتل حکمران ہونگے، سینیٹر حافظ حمد اللہ نے چادر پوشی پانے والی طالبات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ طالبات گھروں کی شہزادیاں ہیں جو پردے اور حیا کے ساتھ علم دین حاصل کر کے ایک باکردار اسلامی معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گی، یہ طالبات صرف عالمات نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی دینی رہنما اور معلمات ہیں جو گھروں کو علم و تقویٰ کا مرکز بنائیں گی مولانا حافظ حمداللہ نے حفاظ کرام کی دستار بندی پر انہیں اور ان کے والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حفاظ قرآن امت کا قیمتی سرمایہ ہیں قرآن کریم کو سینوں میں محفوظ کرنا عظیم سعادت اور اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے حفاظ کر ام جہاں بھی ہوتے ہیں وہاں برکت اور رحمت نازل ہوتی ہے، علماء کرام کو سیاست سے الگ نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ سیاست علماء کو زیب دیتی ہے، اگر سیاست جھوٹ، فریب اور کرپشن کا نام ہو تو علماء کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے لیکن اگر سیاست کا مقصد مخلوق خدا کی خدمت، عدل و انصاف کا قیام، ریاست میں اللہ کے نظام کا نفاذ ہو تو پھر علماء کرام کو اس میدان میں آگے آنا چاہیے،زندگی کا اصل مقصد شریعت ہے اور شریعت کے نفاذ کا راستہ سیاست سے ہو کر گزرتا ہے اگر اس راستے کو بند کر دیا جائے تو اسے کھولنا اہل علم، اہل حق کی ذمہ داری ہے ختم بخاری شریف کی روح پرور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث مولانا قاضی مشتاق احمد نے کہا کہ صحیح بخاری شریف حدیث کی سب سے مستند کتاب ہے، اس کی تکمیل سنت رسول ﷺ سے وابستگی اور وفاداری کے عہد کی تجدید ہے، حدیث نبوی ﷺ قرآن کریم کی عملی تشریح ہے اور جو قوم حدیث سے جڑ جاتی ہے وہ کبھی فکری گمراہی کا شکار نہیں ہوتی، ختم بخاری شریف محض ایک تعلیمی مرحلہ نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری کا آغاز ہے کہ طلبہ اپنی عملی زندگی میں سنت رسول ﷺ کو نافذ کریں، معاشرے میں خیر اصلاح، عدل کا پیغام عام کریں انہوں نے کہا کہ مدارس دینیہ دین کے مضبوط قلعے، علم، حدیث کی امانت کے حقیقی محافظ ہیں تقریب کے اختتام پر حفاظِ کرام کی دستار بندی کی گئی اور مدارس دینیہ کی دینی تعلیمی اور فکری خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا شرکاء نے کانفرنس کو دینی بیداری، فکری رہنمائی اور اصلاح معاشرہ کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔تقریب میں مولانا فرید احمد، مولانا مختار احمد کیانی، مولانا جمیل احمد جامی، مولانا عمران ہمدانی، مولانا فضل ربی، مولانا اختر منیرعابد، مولانا حسین ہزاروی، حافظ عبدالشکور حسان، مولانا گل احمد، مولانا یوسف نتولی، مولانا خورشید انورقادری، مفتی غلام مصطفی،قاری مقصود احمد، مفتی مقصود کیانی، مولانا الطاف بٹ، ارشاد مغل، مولانا احتشام الحق اعوان کے علاوہ ضلعی انتظامیہ، پولیس کے افسران و اہلکاروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی تقریب کے اختتام پر امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔




