مظفرآباد
مسئلہ کشمیر سرحدی نہیں 2کروڑ انسانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے‘سردار عتیق
سیالکوٹ(محاسب نیوز)صدر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ 2کروڑ انسانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔جنوبی ایشیا کا محفوظ مستقبل مسئلہ کشمیر کے پرامن سیاسی مذاکراتی حل سے جڑا ہوا ہے۔ تحریک آزادی کو ایک طرف رکھ کے دنیا کی کوئی طاقت پاکستان ہندوستان کے تعلقات میں بہتری نہیں لاسکتی۔ چھ لاکھ کشمیریوں کا مقدس خون رائیگاں چلا جائے یہ قانون فطرت کے خلاف ہے۔ ریاست جموں وکشمیر ناقابل تقسیم وحدت ہے۔ مہاجرین جموں وکشمیر اور تارکین وطن اسی طرح ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہیں جس طرح جموں وکشمیر کے اندر رہنے والے باقی لوگ۔ مہاجر اور انصار کے رشتے کی بنیاد 15سو سال پہلے مدینہ منورہ میں رکھی گئی۔ مہاجر و انصار کے اس اسلامی رشتے کی روایت سے روگردانی نہیں کرسکتے۔ان خیالات کا اظہار سابق وزیراعظم آزادکشمیر و صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے ڈسٹرکٹ ایسوسی ایشن سیالکوٹ کی دعوت پر بار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ مہاجرین جموں وکشمیر پاکستان کی کشمیر پالیسی کا لازمی حصہ ہیں۔مسلم کانفرنس کے نزدیک مہاجرین جموں وکشمیر مقیم پاکستان آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے آئین قانون، اسمبلی، پارلیمنٹ اور انتظامیہ کا اسی طرح حصہ ہیں جسطرح وہاں کے رہنے والے باقی لوگ۔ پاکستان میں مہاجرین کی آباد کاری کا سارا سہرا مسلم کانفرنس کے سر ہے۔ پاکستان میں مہاجر سیٹوں کا حصول اور انکی تعداد میں اضافہ یہ سب مسلم کانفرنس کی قیادت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ آزاد کشمیر میں ریاست سے باہر کی جماعتوں کا وجود قائداعظم کی کشمیر پالیسی کے منافی ہے۔ہندوستان آبادی کا تناسب بگاڑ کے درحقیقت علاقائی رائے شماری اور تقسم کشمیر کی طرف جانے کا خواہش مند دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کے اندر بھی کچھ مایوس اور شکست خوردہ ذہنیت کے لوگ ہندوستان کے دباؤ سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ صدر مسلم کانفرنس کا کہنا تھا کہ بنیان مرصوص نے ہندوستان کی دفاعی صلاحیت کا سارا پول کھول کے رکھ دیا ہے۔ ہندوستان نے خدانخواستہ ماضی کی طرح کی کوئی غلطی دوبارہ کی تو اسے ناقابل تصور نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کو زیادہ دیر تک محکموم نہیں رکھا جاسکتا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی آزادی نوشتہ دیوار یے۔ ہندوستان کو چاہیے کہ زمینی حقائق کو کھلے دل سے تسلیم کرے۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی خواہش نے ہندوستان کو علاقائی اور عالمی طور پر بری طرح تنہا کردیا ہے۔صدرمسلم کانفرنس نے مزید کہا کہ کشمیر کو آبادی اور رقبے کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسکی دفاعی حیثیت اور شہ رگ کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے۔قراردادالحاق پاکستان اور کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ آزادی ہند کے بنیادی اصولوں کا تسلسل ہے۔ نظریہ الحاق پاکستان اور مسلم کانفرنس کو نقصان پہنچانے اور کمزور کرنے کا مطلب بلاواسطہ تحریک آزادی کشمیر کو کمزور کرنے اور دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ مسلم کانفرنس کو قائد علیہ رحمتہ اور حضرت علامہ اقبال کا مینڈیٹ اور تائید وحمائت حاصل یے۔ علامہ اقبال نے مسلم کانفرنس کو روح آزادی کشمیر سے تعبیر کیا ہے۔ ریاست جموں وکشمیر میں قربانیوں کا آغاز جموں کے قتل عام سے ہوا۔ آج کشمیر اور ہندوستان کی جیلوں میں سینکڑوں اور ہزاروں بے گناہ کشمیری گل سڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کسی بھی حکومت کو 5اگست 2019 کے بعد والے کشمیر پر بات نہیں کرنی چاہیے۔ کشمیر پر جب بھی بات ہو ساری ریاست جموں وکشمیر کی بات کی جانی چاہیے۔ ہندوستان کی خواہش ہے کہ وہ عالمی دباؤ کے ذریعے علاقائی استصواب رائے کا راستہ ہموار کرے۔ ہمیں دشمن کی تمام چالوں کو اور پاکستان کے خلاف مستقبل کے منصوبوں کو اور ہندوستان کے ساتھ ماضی کے تجربات کو سامنے رکھ کر آئندہ کی کشمیر پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔تقریب کے آغاز میں صدر بار سعید احمد بھلی ایڈووکیٹ اور سیکرٹری بار چوہدری شہباز شمس ایڈووکیٹ نے صدرمسلم کانفرنس کو خوش آمدید کہتے ہوئے زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ بار کے صدر نے کہا کہ مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان اور انکا خاندان اور انکی جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس تحریک آزادی کا عظیم سرمایہ ہیں۔ صدرمسلم کانفرنس نے اپنی نظریاتی اور سیاسی استقامت اور اصول پسندی کے باعث بہت سارا سیاسی نقصان تو اٹھایا لیکن کبھی حالات کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا۔ مجاہد اول اور مسلم کانفرنس کا کردار انتہائی قابل تحسین ہے۔ تقریب کے آخر میں بار کے صدر اور انکے رفقاء نے صدرمسلم کانفرنس کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔ تقریب میں شرکت کے لیے مسلم کانفرنس کے سابق صدر مرزا محمد شفیق جرال ایڈووکیٹ، انسانی حقوق کے محاذ پر ملکی اور عالمی سطح پر انتہائی متحرک اور فعال کردار ادا کرنے وال محمد اعجاز نوری، مسلم کانفرنس پنجاب کے صدر وحیدالحق ہاشمی ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔صدر مسلم کانفرنس نے ڈسٹرکٹ بار سیالکوٹ کے صدر سعید احمد بھلی ایڈووکیٹ، سیکرٹری چوہدری شہباز شمس ایڈووکیٹ اور انکی ساری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔سیالکوٹ شہر سے کشمیریوں کی خاص نسبت ہے۔ ایک نسبت مصور پاکستان علامہ اقبال کی ہے جو خود کشمیری النسل تھے اور دوسری نسبت پاکستان کا سب سے پہلا شہر ہے جس نے ہندوستان کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے ہجرت کرنے والے لاکھوں کشمیریوں کو باعزت اور باوقار پناہ دی۔



