مظفرآباد
غزہ مجوزہ گورننس فریم ورک ٹرمپ کی سرپرستی میں ہی مؤثر رہ سکتا ہے، مسعود خان
اسلام آباد (بیورورپورٹ)آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ و اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے مجوزہ کثیرسطحی گورننس فریم ورک، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی فارمولے پر مبنی ہے، اسی صورت مؤثر رہ سکتا ہے جب تک صدر ٹرمپ خود اس کی قیادت اور براہِ راست سرپرستی کرتے رہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ کسی فوری یا عارضی سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ پہلے سے زیرِ بحث تجاویز اور خیالات کو یکجا کر کے اسے ایک جامع روڈمیپ کی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس فریم ورک میں تین سطحی انتظامی ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے، جس میں ”بورڈ آف پیس“ مرکزی اور سب سے طاقتور فورم ہوگا، جس کی صدارت صدر ٹرمپ خود کریں گے۔ اس کے بعد ایگزیکٹو بورڈ جبکہ تیسری سطح پر غزہ کے لیے ایک مقامی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا۔ سردار مسعود خان کے مطابق اس منصوبے میں انتظامی سطح پر فلسطینیوں کی محدود شمولیت شامل ہے، جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انتظامی اور وزارتی تجربہ رکھنے والے افراد کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نظام کو جزوی طور پر بلدیاتی نوعیت تو ملے گی، تاہم اصل اسٹریٹجک اور فیصلہ کن اختیارات بالائی فورمز کے پاس ہی رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار ادارہ جاتی ڈیزائن سے زیادہ سیاسی حقائق پر ہے۔ جب تک صدر ٹرمپ کی سیاسی گرفت مضبوط رہے گی، یہ فریم ورک فعال رہے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بورڈ آف پیس اور ایگزیکٹو سطح پر وہ شخصیات شامل ہوں گی جو امریکی صدر کے قریبی سمجھی جاتی ہیں، جن میں کابینہ کے ارکان، قومی سلامتی کے حکام اور سیاسی و کاروباری حلقوں سے وابستہ صدر کے دیرینہ رفقا شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق رئیل اسٹیٹ اور تعمیرِ نو سے وابستہ شخصیات کی شمولیت سے منصوبے کے معاشی اور تعمیراتی پہلو نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ ابتدائی اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طویل جنگ، شدید تباہی اور جانی نقصانات سے دوچار غزہ کے عوام اگر بنیادی سلامتی اور معمولاتِ زندگی کی جزوی بحالی کے امکانات دیکھیں تو محدود تعاون پر آمادہ ہو سکتے ہیں، تاہم مکمل آزادی، خودمختاری اور وسیع علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول کے خاتمے کا امکان بدستور موجود نہیں ہوگا۔سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مجموعی ذمہ داری ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے پاس ہوگی، جس کی قیادت ایک امریکی جنرل کرے گا۔ یوں سیکیورٹی سے متعلق اہم فیصلے عملاً امریکی اختیار میں ہوں گے جبکہ اسرائیل ہم آہنگی کے کردار میں رہے گا۔ اس کے برعکس فلسطینیوں کو صرف محدود بلدیاتی نوعیت کے اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ بڑے سیاسی اور اسٹریٹجک فیصلے بورڈ آف پیس کے دائرہ اختیار میں رہیں گے۔اقوام متحدہ کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ غزہ میں ناکامی اقوام متحدہ کی غیر مؤثریت کا نتیجہ ہے۔




