
آزاد کشمیر کے جنگلات محض درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ خطے کی بقا، خوبصورتی، آب و ہوا، آکسیجن، جانوروں کی خوراک اور قیمتی جڑی بوٹیوں کا واحد قدرتی گڑھ ہیں۔ مگر افسوس کہ جہلم ویلی، گڑھی دوپٹہ اور دیگر پہاڑی علاقوں سے ر سال جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، جنہیں اکثر“حادثہ”قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ قانونی جرم، قومی نقصان اور اجتماعی غفلت ہے۔
پودوں کا خاتمہ: ناقابلِ تلافی نقصان
جنگلات میں لگنے والی آگ سب سے پہلے چھوٹے پودوں، نرسریوں اور خود رو جھاڑیوں کو ختم کرتی ہے، جو آنے والے برسوں میں بڑے درخت بنتے ہیں۔ ایک ماچس کی تیلی دہائیوں کی قدرتی نشونما کو راکھ میں بدل دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں:
نایاب جڑی بوٹیاں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہیں جنگلی جانور اور پرندے زندہ جل جاتے ہیں یا ہجرت پر مجبور ہوتے ہیں زمین بنجر، کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ کا شکار ہو جاتی ہے
موسم شدید، بارشیں بے ترتیب اور آلودگی میں اضافہ ہو جاتا ہے
قانونی حقیقت: یہ صرف لاپرواہی نہیں، جرم ہے
آزاد جموں و کشمیر میں جنگلات کو نقصان پہنچانا واضح طور پر قابلِ سزا جرم ہے۔ آزاد کشمیر فاریسٹ ایکٹ 1930 (AJK Forest Act, 1930)
دفعہ 26: محفوظ جنگلات میں آگ لگانا، لگوانا یا آگ لگنے میں معاونت کرنا سنگین جرم ہے۔
دفعہ 33: ریاستی جنگلات کو نقصان پہنچانے والا شخص جرمانہ اور قید دونوں کا مستحق ہو گا۔
دفعہ 41: محکمہ جنگلات کو اختیار حاصل ہے کہ وہ نقصان پہنچانے والے سے معاوضہ (Compensation) وصول کرے۔
آزاد کشمیر پینل کوڈ
دفعہ 435 / 436 (آتش زنی): جان بوجھ کر آگ لگا کر سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانا قابلِ تعزیر جرم ہے، جس میں سخت سزا شامل ہے۔
ماحولیات تحفظ ایکٹ
قدرتی وسائل کو نقصان پہنچانا اور ماحولیاتی تباہی پھیلانا قابلِ سزا جرم ہے، جس پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے: قانون موجود ہے تو عملدرآمد کہاں ہے؟
ہر سال جنگلات جلتے ہیں، خبریں لگتی ہیں، تصاویر آتی ہیں، مگر: کتنے ملزمان گرفتار ہوئے؟ کتنے مقدمات درج ہوئے؟ کتنے مجرموں کو سزا ملی؟ یہ خاموشی خود ایک جرم ہے۔ اگر آج بھی آگ لگانے والے کو“نادانی”کہہ کر چھوڑ دیا گیا تو کل یہ جرم عادت بن جائے گا۔ ذمہ داری طے ہونی چاہیے
محکمہ جنگلات کی غفلت
انتظامیہ کی کمزور نگرانی
پولیس کی عدم دلچسپی
اور مقامی سطح پر خاموش تماشائی بنے رہنا
یہ سب برابر کے شریکِ جرم ہیں۔
حل نہیں، حکم درکار ہے
جنگلات میں آگ لگانے پر زیرو ٹالرنس پالیسی
فوری FIR اور دفعات 26، 33، 435 کے تحت مقدمات
جرمانوں کے ساتھ نقصان کا تخمینہ اور وصولی
مقامی افراد کو مخبر اور محافظ بنانا میڈیا اور علما کے ذریعے شعور نہیں بلکہ خوفِ قانون پیدا کرنا
اختتامیہ: جنگلات جلانا صرف درخت جلانا نہیں، یہ آنے والی نسلوں کا مستقبل جلانا ہے۔ جو شخص ماچس کی ایک تیلی سے جنگل کو آگ لگاتا ہے، وہ دراصل ریاست، قانون اور انسانیت کے خلاف جرم کرتا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم ہمدردی نہیں، قانونی گرفت کریں، ورنہ تاریخ ہمیں جنگلات کا قاتل لکھے گی۔




