
سیاست کے بے رحم سمندر میں جہاں لوگ اکثر مفادات کی لہروں کے ساتھ اپنا رخ بدل لیتے ہیں وہاں کچھ ایسی شخصیات بھی ہوتی ہیں جو چٹان بن کر اپنے نظریات پر قائم رہتی ہیں۔ سابق وزیر تعلیم آزاد کشمیر محمد مطلوب انقلابی مرحوم ایک ایسی ہی قد آور شخصیت کا نام ہے جن کی زندگی جدوجہد، عوامی خدمت اور نظریاتی پختگی سے عبارت تھی۔
?تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ سیاست کو محض اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا ذریعہ سمجھتے ہیں، وقت انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ مطلوب انقلابی صاحب نے ثابت کیا کہ سیاست اگر اصولوں اور نظریات کی بنیاد پر کی جائے تو وہ انسان کو عام لوگوں کے دلوں میں ہمیشگی عطا کر دیتی ہے۔
?آج وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں مگر ان کی چھوڑی ہوئی روایات اور عوامی خدمت کے نشانات آج بھی زندہ ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ۔۔۔?جو لوگ عوام کے دکھ سکھ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں، ان کی قبریں بھی آباد رہتی ہیں اور سیاست ان کے گرد گھومتی ہے۔
?قبر سے زندہ سیاست پر بھاری
?مطلوب انقلابی صاحب کی شخصیت کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ یہ ان کی حق گوئی اور بے باک سیاست کا کرشمہ ہے کہ وہ آج اپنی قبر سے بھی بے شمار زندہ لوگوں کی سیاست پر بھاری ہیں۔ ان کا نام آج بھی ایک ایسی تحریک ہے جو نوجوانوں کو ہمت اور کارکنوں کو حوصلہ دیتی ہے۔ ان کا کردار یہ پیغام دیتا ہے کہ سیاست عہدوں سے نہیں بلکہ کردار سے قد آور ہوتی ہے۔
?ہم وزیراعظم آزاد کشمیر کے بے حد مشکور ہیں جنہوں نے کوٹلی تا کھوئی رٹہ روڈ کو ”محمد مطلوب انقلابی” کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا۔جس کی تحریک سابق صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب کوٹلی شوکت قمر صاحب نے کی اور جس میں عامر ذیشان جرال صاحب کا کردار بھی مثالی رہا۔ان احباب کی کاوشوں کو بھی سلام عقیدت پیش کرتے ہیں جو آج بھی اپنے محسن قائد سے وہی عقیدت اور وفا رکھے ہوئے ہیں جو ان کی زندگی میں بھی تھی۔ روڈ منسوبی کا یہ فیصلہ نہ صرف ایک عظیم لیڈر کی عوامی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ یہ ان کے چاہنے والوں کے جذبات کی ترجمانی بھی ہے۔
?یہ اعزاز درحقیقت مطلوب انقلابی صاحب کی اس تڑپ اور لگن کا صلہ ہے جو انہوں نے اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ یہ سڑک اب صرف مسافت طے کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسے مخلص انسان کی یاد دلائے گی جس نے اپنی پوری زندگی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے صرف کر دی۔
?مطلوب انقلابی کل بھی زندہ تھے، مطلوب انقلابی آج بھی زندہ ہیں!



