
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف الخلوقات بنانے کے بعد اسے قلم کے ذریعہ علم سکھایا۔ اور فرمایا۔ ” تیرا رب بڑا کرم والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور آدمی جو وہ نہیں جانتا تھا اسے معلوم کرایا” قلم نہ ہوتی تو نہ الہامی کتابیں ہم تک پہنچ پاتیں اور نہ صدیوں پر محیط ہر شعبہء ہائے زندگی میں کی گئی ترقی سے ہم آگاہ ہوتے۔اور نہ ہی ان علوم کا ارتقاء کا سفر جاری رہ سکتا۔
علم ہے کیا؟ سیاسی،سماجی،معاشرتی اور سائینسی حقائق پر کائینات کے سربستہ رازوں کو دریافت کرنا اور ان پر تحقیق کر کے ان کو انسانیت کے فائدے کیلئے کھلا چھوڑنا علم اور مقصدِ علم ہے۔ اس کیلئے لازمی شرط یہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اپنے ذہن کو قدیم سے جدید کی طرف ارتقاء کے سفر پر رواں رکھے۔تو پھر ہی وہ علم انسانیت کیلئے تازہ جہانوں کی نوید بن سکتا ہے۔بقول اقبال:
جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود۔
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا۔
اب دیکھتے ہیں کہ آج کے قلمکار یا کالم نگار کون ہیں؟ ان کے بارے میں یہ شرط ہے کہ ” قلم کار وہ ہیں جو اپنے دور کے مسائل کا ادراک رکھتے ہوں۔ ان کے پیچھے چھپی حقیقتوں کو جانتے ہوں۔ان سے متعلقہ ماضی کے جھروکوں میں ثبت حقائق میں جھانک سکیں اور ان سے سبق لیکر آج کے دور کے حقائق و مسائل کا اپنے شعورِ عصر اور تقاضوں کی روشنی میں تجزیہ کرتے ہوئے قوم کیلئے مستقبل کی روشن راہوں کیلئے رہنمائی کر سکیں۔” لیکن ان شرائط کو پورا کرنے سے پہلے گوشہء دل کی صفائی ضروری ہے کہ قلم غیر جانبدار ہو۔ دل ہر قسم کے تعصبات، گھٹیا خواہشات اور ذاتی مفادات سے پاک ہو۔ نبء پاکﷺ نے اس عمل کو بھی جہادِ اکبر کہا ہے۔سینوں میں چھپے ان بتوں کو نکال کر ہی ایک روشن اور غیر جانبدار تحریر معرضِ وجود میں لائی جا سکتی ہے۔بقول بلھے شاہ۔
دل تیرا رب سچے دا پنجرہ۔کدی اندر ماریں چہاتی ہُو۔ کی لینا تو خواج خضر توں۔تیرے اندر آب حیاتی ہُو۔
اچھائی اور برائی کو پرکھنے کا شعور اللہ پاک نے ہر انسان کی جبلت میں بھی رکھا ہوا ہے اور اسے اختیار دیا ہے کہ وہ عدل و انصاف کے راستے پر چل کر انعام یافتہ بن جائے یا ظلم و نا انصافی کا ساتھ دیکر اللہ تعالیٰ سے کفر کا ارتکاب کرے۔اور پھر اللہ پاک نے خبردار بھی کیا ہے کہ وہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا ہے۔ اور نبء پاک ﷺ نے جابر حکمران کے آگے کلمہء حق اٹھانے کو بھی جہادِ اکبر فرمایا ہے۔ ایسی صورت میں قلمکاروں نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ حق وسچ کا علم بلند کرتے ہوئے مظلوم کا ساتھ دینگے یا معاشرے کے طاقتور طبقات سے ڈر کر یا ضمیر فروشی کرتے ہوئے ظالموں کے ہاتھ اپنا قلم بیچ دینگے۔قلم کا سفر دو دھاری تلوار ہے جس پرحق و سچ کا ساتھ دینے والا ہی سرخرو ہو سکتا ہے۔قلم فروش پہلے ضمیر فروش بنتا ہے اور قدرت کی طرف سے اسے سب سے بڑی سزا یہ ملتی ہے کہ قدرت اس کی تخلیقی صلاحتیں سلب کر لیتی ہے۔
ہمارے دور کا المیہ یہ بھی ہے کہ ھمارے سامنے کسی بھی مسلہ کے حقائق سامنے نہیں آتے۔
ہم ایسے دورِ سیاست میں جی رہے ہیں میاں۔
جہاں کہ جھوٹ کو قومی مفاد کہتے ہیں۔
حقائق ملکی ہوں یا بین الاقوامی انہیں توڑ موڑ کر قوم کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ چالیس سال پہلے دو سپر پاورز کی لڑائی امریکہ میں آپریشن سائیکلون کہلاتی تھی جو پاکستان پہنچ کر جہاد بن گئی اور ہمارے اپنے پیدا کردہ پیارے پیارے طالبان بھائی جب ہمارے ہی گلے کاٹنے لگے تو آج وہ خوارج کہلاتے ہیں۔ عوامی حقوق کی بحالی کے نام پر لیبیا، عراق، شام،افغانستان اور لبنان وغیرہ میں آگ و خون کے کھیل کھیلے گئے اور تیل و معدنیات پر سامراجی قبضہ ہوا۔ اور اب غزہ کی طرف نئی تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔اب یہی مشورہ دیا جاسکتا ہے کہ
ہر نعر? تکبیر پہ لبیک نہ کہنا۔
لشکر وہ کہیں لشکرِ یزید نہ ہووے۔
ایسی صورت حال ہو تو قلمکاروں کو ماضی کے تجربات سے سبق سیکھ کر قلم چلانا چاہئے۔ کالم نگار قلمکاروں کو اس پر بھی سوچنا اور لکھنا چاہئے کے ریاست جموں و کشمیر میں لاکھوں انسانوں کی قربانیوں کے باوجود آزادی کی منزل قریب ہونے کی بجائے دور کیوں ہوتی رہی؟ نہرو جموں و کشمیر پر قبضہ کرنے کے بعد مسلہء کشمیر اقوام متحدہ کیوں لے کر گیا؟ اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی چارٹر کے چیپٹر 6 کے تحت اقوام متحدہ کی پاس کردہ قرار دادیں ریاست جموں و کشمیر کی آزادی کیلئے ہیں یا اس کی تقسیم اور اس کی ابدی غلامی کیلئے ہیں؟ اس موضوع پر بھی اہلِ قلم کی رائے درکار ہے۔




