کالمزمظفرآباد

مسلم کانفرنس کا کامیاب کنونشن: نظریاتی سیاست کی فتح ثابت ہوا

تحریر: سمعیہ ساجد

نظریہ زندہ ہے، قیادت بھی بے مثال
مسلم کانفرنس کے سنگ، کشمیر بنے گا پاکستان
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا حالیہ کنونشن محض ایک جماعتی اجتماع نہیں تھا بلکہ یہ ریاست جموں و کشمیر کی نظریاتی سیاست کی بقا، استقامت اور تسلسل کا واضح ثبوت بن کر سامنے آیا۔ ایسے وقت میں جب سیاست ذاتی مفادات، وقتی نعروں اور اقتدار کی کشمکش میں الجھ چکی ہو، مسلم کانفرنس کی جانب سے آزاد کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں کامیاب کنونشنوں کا سلسلہ اس امر کی گواہی ہے کہ نظریہ آج بھی زندہ ہے، کارکن آج بھی متحرک ہیں اور قیادت آج بھی عوام کے دلوں میں اپنا مقام رکھتی ہے۔مسلم کانفرنس برصغیر کی وہ واحد نظریاتی سیاسی جماعت ہے جس کی بنیاد نظریہ الحاقِ پاکستان، تحریکِ آزادی کشمیر اور ریاستی تشخص کے تحفظ پر رکھی گئی۔ 1932ء میں قائم ہونے والی آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے نہ صرف تحریکِ آزادی کو سیاسی سمت دی بلکہ کشمیری عوام کو ایک واضح منزل بھی عطا کی۔ آج جب ہم بھمبر سے شروع ہونے والے کشمیر بنے گا پاکستان کنونشنز، اس کے بعد گوجرانوالہ، ڈڈیال، سماہنی، مظفرآباد اور پسرور ضلع سیالکوٹ میں منعقدہ کنونشنز کی کامیابی کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ اجتماعات دراصل اسی نظریاتی سفر کی تجدید تھے۔کنونشنز میں کارکنان، نوجوانوں، خواتین اور بزرگوں کی بھرپور شرکت نے اس تاثر کو مکمل طور پر زائل کر دیا کہ نظریاتی سیاست کمزور پڑ چکی ہے۔ مظفرآباد میں ہونے والا کنونشن اس لیے بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل تھا کہ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ اب مظفرآباد میں جماعتی طاقت کا مظاہرہ ممکن نہیں رہا، مگر چیئرمین یوتھ ونگ سردار عثمان علی خان، سید یاسر نقوی، سلیم اعوان، سید تصور عباس موسوی، شیخ مقصود احمد،سجاد انور عباسی،میر رضوان الرحمن، راجہ مہتاب ایڈووکیٹ، ثقلین فدا کاظمی،خواجہ اجہ حنان احمد، سکندر حبیب میر اور دیگر جماعتی ساتھیوں کی شبانہ روز محنت نے یہ کنونشن کامیاب ترین بنا دیا۔راقمہ کی حیثیت سے یہ کہنا باعثِ فخر ہے کہ خواتین ونگ کی شرکت غیرمعمولی اور تاریخی رہی۔ صدر مسلم کانفرنس خواتین ونگ مظفرآباد ڈویژن محترمہ مقصوم ظہور کاظمی، جنرل سیکرٹری مسلم کانفرنس خواتین ونگ سٹی مظفرآباد مریم مبشر، مہاجر کیمپ سے سکینہ لیاقت اعوان، وائس چیئرپرسن خواتین ونگ ضلع باغ نسرین اختر راجہ، سینئر نائب صدر خواتین ونگ ضلع مظفرآباد محترمہ سیدہ صباء کاظمی، صدر خواتین ونگ حلقہ کوٹلہ محترمہ آمنہ مغل، سینئر نائب صدر خواتین ونگ حلقہ کوٹلہ محترمہ پاکیزہ تبسم، سفینہ حمید، راولپنڈی سرکل خواتین ونگ کی صدر محترمہ سلمہ کاظمی سمیت خواتین ونگ کی کثیر تعداد کی شرکت نے یہ ثابت کر دیا کہ مسلم کانفرنس کی خواتین آج فکری، تنظیمی اور نظریاتی محاذ پر صفِ اول میں
کھڑی ہیں۔یہ اجتماع اس بات کا عملی ثبوت تھا کہ مسلم کانفرنس اور عوام کے درمیان رشتہ وقتی نعروں کا نہیں بلکہ نظریے، قربانی اور اعتماد کا رشتہ ہے۔ یوتھ ونگ کی بھرپور شمولیت بھی کنونشنز کی کامیابی کا ایک نمایاں پہلو رہی۔ چیئرمین یوتھ ونگ سردار عثمان عتیق جس انداز سے صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کا دست و بازو بن کر جماعت کی مضبوطی میں کردار ادا کر رہے
ہیں، وہ بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔یہ کنونشنز اس لحاظ سے بھی تاریخی حیثیت رکھتے ہیں کہ انہوں نے مخالفین کے اس پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کر دیا کہ مسلم کانفرنس کا دور ختم ہو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نظریات کبھی پرانے نہیں ہوتے، پرانی ہوتی ہیں صرف مصلحتوں پر مبنی سیاستیں۔ صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کی قیادت میں جماعت نے جس سیاسی بصیرت، استقامت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے، وہ لائقِ تحسین ہے۔ مشکل حالات، دباؤ اور سازشوں کے باوجود جماعت کو منظم رکھنا اور کارکنان کا اعتماد بحال رکھنا ایک بڑی کامیابی ہے۔کنونشنز نے یہ پیغام بھی دیا کہ مسلم کانفرنس محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی ایک مضبوط سیاسی حقیقت ہے۔ آج جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور عالمی برادری کی خاموشی ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے، ایسے میں مسلم کانفرنس کے یہ کنونشنز تحریکِ آزادی کشمیر سے غیرمتزلزل وابستگی کا اعلان ہیں۔ نظریہ الحاقِ پاکستان ہماری سیاست کی بنیاد ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ان کنونشنوں کی ایک بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ نظریہ الحاق پاکستان کے عظیم سرخیل،وادی نیلم کے عظیم سپوت، مجاہدِ اوّل سردار عبدالقیوم خانؒ کے قریبی نظریاتی ساتھی، میرے والد مرحوم خواجہ عبدالرحمن بٹ (صدر ہزارہ مسلم کانفرنس) کے بھائیوں جیسے دوست افضل بٹ مرحوم کے صاحبزادے عابدافضل بٹ کو ریاست کی اولین اور تاریخی سیاسی جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس میں شمولیت پر دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ عابد افضل بٹ کی شمولیت سے اس بات پر یقین ہو چکا ہے کہ نظر والے سمجھتے ہیں نظریہ کبھی مر نہیں سکتا اورعابدفضل بٹ کی مسلم کانفرنس میں شمولیت بارانِ رحمت کے ابتدائی قطرے کی طرح ہے، جو بنجر زمین میں امید کی کونپلیں اُگاتا اور سوئی ہوئی فصلوں کو نئی زندگی عطا کر دیتا ہے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ جن کٹھن اور آزمائشی حالات میں چچا جی مرحوم
افضل بٹ نے مجاہد اوّل اور مسلم کانفرنس کا بے مثال ساتھ دیا، عابد افضل بٹ بھی اسی نظریاتی وابستگی، خلوص اور عزم کے ساتھ جماعت کی مضبوطی، استحکام اور نظریے کے فروغ کے لیے موثر کردار ادا کریں گے۔بلاشبہ یہ کنونشنز مسلم کانفرنس کے ایک نئے سیاسی سفر کی بنیاد ہیں، ایک ایسا سفر جو نظریے، قربانی اور عوامی خدمت سے عبارت ہے، اور جو مستقبل میں بھی کشمیری عوام کی حقیقی ترجمانی کرتا رہے گا۔

Related Articles

Back to top button