کالمز

ڈریگن،ہاتھی اور پتنگ

جس دن بھارت کے شہر حیدرآباد میں یورپی یونین اور بھارت کے درمیان تجارتی اور دفاعی تعاون پر مبنی مدر آف آل ڈیلز کی تقریب ہور ہی تھی عین اسی دن خلیجی اخبار گلف نیوز نے ڈان کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی۔حقیقت میں یہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ تھی جسے پہلے ڈان نے اور بعدازاں گلف نیوز نے شائع کیا۔”جس کے مطابق گزشتہ مالی سال 2025,26 کی پہلی ششماہی یعنی جولائی سے دسمبر تک پاکستان کا تجارتی خسارہ 44.42فیصد سے بڑھ کر 6.683بلین ڈالر ہوگیا۔اس کی ایک وجہ بنگلہ دیش،افغانستان اور چین سمیت نو ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تجارت میں ہونے والی کمی ہے۔افغانستان کے ساتھ دس اکتوبر2025سے تجارت مکمل طور پر بند ہے“۔یہ کوئی فیک نیوز بھی نہیں جس کا مقصد بیانیہ سازی ہو بلکہ یہ پاکستان کے سب سے بڑے مالیاتی ادارے کی رپورٹ ہے جسے ایک ملکی اور ایک غیر ملکی اخبار نے اپنی زینت بنایا ہے۔افغانستان کے ساتھ تجارت اس موہوم امید پر مکمل طور پر بند کی گئی تھی کہ اس کے نتیجے میں افغانستان گھٹنوں پر آجائے گا اور گڑ گڑا کر معافیاں مانگ لے گا۔تجارت ہی مکمل بند نہیں ہوئی بلکہ مہاجرین کا سیلاب بھی اسی امید کے ساتھ افغانستان میں دھکیل دیا گیا تھا۔افغان حکومت نے اس کے برعکس رویہ اپنالیا،وقتی طور پر افغان تاجروں کا مال جو زیادہ تر سبزیوں اور پھلوں پر مشتمل تھا سرحد پر برباد ہوا مگر انہوں نے پاکستان پر انحصار کم کرنے کے لئے متبادل راستے تلاش کئے۔ہم یہ بات فراموش کر بیٹھے جو عوامی جمہوریہ چین ہمیں مچھلی پکڑ کر دینے کی بجائے مچھلی پکڑنے کا طریقہ بتا کر حقیقی خود انحصار ملک بنانے کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے تھا وہی چین اب افغانستان کے پشت پر آن کھڑا ہے۔اپنی بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ وہ افغانوں کو مچھلی پکڑنے کے وہ سارے گُر بھی سکھا رہا ہے جو وہ پاکستانیوں کو سکھانے میں ناکام رہا۔کراچی کی بندرگاہ تک رسائی سے محروم ہونے کے بعد انہوں نے چابہار اور پورٹ عباس کی بندرگاہوں کو استعمال کرنا شروع کیا۔انہوں نے اپنے تاجروں کو حکم دیا کہ وہ پاکستان میں اپنے کاروباری شراکت داروں کے ساتھ حساب کتاب ایک مخصوص مدت کے اندر ختم کریں اس کے بعد لین دین پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی۔افغانستان کو دوائیوں کی ترسیل کے لئے جو فارماسیوٹیکل کمپنیاں قائم کی گئی تھیں ان کے کاروبار بند ہوگئے۔افغانی محنتی قوم ہے اور پاکستان کا کونسا گھر ہے جو ان کے محنتی اور جفاکش ہونے کا ذاتی گواہ نہیں۔گھروں کی تعمیر سے سامان کی منتقلی تک مشکل ترین کاموں کی انجام دہی کی کسی بھی شکل تک پاکستانیوں کوبے شمار افغان کردار آج بھی یاد ہوں گے۔افغان حکومت نے واپس جانے والے مہاجرین کو سرد موسم میں دربدر ہونے سے بچانے کے لئے ان افغانوں کے خالی گھروں کو بزور طاقت کھول دیا جو غیر ملکوں میں مقیم ہیں۔اسی طرح ہمسایہ ملکوں کے ساتھ معاہدات کرکے اپنی مصنوعات کے لئے نئی منڈیاں تلاش کی گئیں۔گوکہ پاکستان کے ساتھ کم لاگت اور کم فاصلے کی تجارت کا کوئی نعم البدل ان کے پاس نہیں مگر وہ پاکستان کے لیوریج کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پنجاب کا کسان بدحال اور پریشان ہے۔آلو اور کینو سمیت ایسی بہت سی اشیائے خورد ونوش برباد ہو رہی ہیں جن کی منڈی افغانستان تھا۔ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کی رونقیں عرب دوستوں اور چین کے زر ضمانت کے دم سے قائم ہیں جبکہ بڑھتے ہوئے سیاسی انتشار اور حکومتی پالیسیوں کے باعث ہمارا جی پی ایس سٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔بھارت چالیس کھرب کی جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکاہے۔بھارت کے یوم جمہوریہ کی مہمان خصوصی یورپی کونسل کی صدر ارسلا وانڈئیر لین تھیں۔یہ محض ایک رسمی دورہ اور فوٹو سیشن نہیں رہا نہ ہی مس ارسلا نے بھارت کو آپریشن سندور میں کارکردگی کی تعریفوں پر ٹرخایا بلکہ اس موقع کو بھارت اور یورپی یونین دونوں نے ایک ایسے معاہدے کے لئے استعمال کیا جسے فریقین نے مدر آف آل ڈیلز کا نام دیا۔جس کے مطابق دوبلین عوام کے لئے فری ٹریڈ زون قائم کرنے کے عہد وپیماں ہوئے۔ارسلا وانڈئیر لین کا کہنا تھا کہ ہندوستان دنیا کو مزید مستحکم خوش حال اور محفوظ بنائے گا اور ہم سب کو اس سے فائدہ ہوگا۔جب سے ٹرمپ نے یورپ اور بھارت دونوں کو دھمکانا شروع کیا ہے تو دونوں نے بہم یکجا ہو نے کا راستہ اپنالیا ہے یہی نہیں بلکہ یورپ نے امریکہ کو ہم کوئی غلام ہیں کیا؟کہہ کر چین کے ساتھ تجارتی اور دفاعی راہ ورسم بڑھانا شروع کر دیا ہے۔حد تو یہ کہ بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر چینی صدر ژی جن پنگ نے جو تہنیتی پیغام جاری اس کے مندرجات میں ہمارے لئے غور کرنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ بھارتی صدراے وپدی مرمو کے نام صدر ژی کا پیغام کچھ یوں تھا۔”ہم اچھے دوست پڑوسی اور شراکت دار ہیں۔ایک سال میں ہندوستان اور چین کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔چین اور ہندوستان ایک ساتھ رقص کرنے والے ڈریگن اور ہاتھی ہیں“۔چین کو ڈریگن اور بھارت کو ہاتھی سے تشبیہہ دی جاتی ہے اور دونوں نے ایک سٹیج پر اور ایک چھت تلے رقص کرنے کا راستہ چن لیا ہے تو سمجھ جانا چاہئے کہ ہم اپنے مسائل اور ترجیحات کی پوٹلی کے ساتھ کہاں کھڑے ہیں؟۔ہمارے حکمران طبقات کا فرض تو یہ بنتا ہے کہ امریکہ کو بتائیں کہ جس طرح کا معاہدہ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ہوا ہے اسی طرح کا معاہدہ پاکستان کے ساتھ کیا جائے۔اول تو پاکستان ایسا مطالبہ نہیں کرے گا اگر کرے گا بھی ہو تو ماضی کی روایات اور تاریخ کہ روشنی میں اس کا حال یوں ہوگا۔
قاصد کے آتے آتے خط ایک اور لکھ رکھوں
یہ جانتا ہوں وہ کیا لکھیں گے جواب میں
دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے دوران امریکہ بھارت کے ساتھ معاہدوں کا ایک سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا تو پاکستان ہر معاہدے کے بعد یہ مطالبہ کرتا تھا کہ اسی طرز کا معاہدہ پاکستان کے ساتھ بھی کیا جائے مگر امریکہ کا جواب تھا پاکستان اور بھارت کے لئے امریکہ کے دوالگ خانے اور پیمانے ہیں۔آپ کے ساتھ جنگوں میں تعاون کا تعلق ہے بھارت کے ساتھ طویل المیعاد تزویراتی شراکت داری۔آپ کو اپنی ہردور کی خدمت کا صلہ موقع پر ہی دیا جاتا ہے جبکہ ان کے ساتھ ترقی کے امکانات اور مواقع فراہم کرنے کا تعلق ہے جو ہمہ موسمی ہے۔اس کہانی میں ہمارے دو ہمسائے ڈریگن اور ہاتھی آخر کار ایک سٹیج پر ایک ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر رقص کرنے پر آمادہ ہوگئے اور ہماری ترجیحات کا عالم یہ ہے کہ بسنت میں کونسے رنگ اور تصویروالی پتنگ اُڑائی جانی ہے اور کونسا گانا چلانا اور کس سے پرہیز کرنا کرنا ہے؟۔ ٹرمپ ہمارے ہاتھوں بھارت کے گرائے جانے والے جہازوں کی تعداد بھلے کم کر دے مگر ہمارے ساتھ ایک مضبوط تجارتی معاہدہ کرے تاکہ اس تعلق اور تعاون کا فائدہ تاریخ میں پہلی بارپاکستان کی جڑوں یعنی عوام تک پہنچ سکے۔

Related Articles

Back to top button