مظفرآباد

بوائز ہائی سکول بگلے غربی پاچھیوٹ‘ پرائمری کی مستقل عمارت تعمیر نہ ہوسکی

راولاکوٹ (اخلاق احمد خان سے) بوائز ہائی سکول بگلے غربی پاچھیوٹ کے پرائمری سیکشن کی مستقل عمارت نہ ہونے کے باعث طلبہ آج بھی زلزلے کے بعد قائم کئے گئے خستہ حال شیلٹر میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ سالہا سال گزر جانے کے باوجود حکومتی وعدے عملی شکل اختیار نہ کر سکے، جس کے باعث بچوں کا تعلیمی مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ شدید سردی، گرمی اور بارشوں میں اس عارضی ڈھانچے میں پڑھائی جاری رکھنا نہ صرف تعلیمی معیار پر سوالیہ نشان ہے بلکہ طلبہ کی صحت اور سلامتی کے لئے بھی خطرہ بن چکا ہے۔چند روز قبل حکومت کی جانب سے مختلف تباہ حال سکولوں کے لئے فنڈز کے اعلان نے امید ضرور پیدا کی، مگر افسوس کہ بوائز ہائی سکول کے پرائمری سیکشن کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ یہ رویہ عوامی احساسات کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام میں عدم مساوات کی واضح مثال بھی ہے۔ اگر دیگر اداروں کی بحالی ممکن ہے تو اس سکول کے بچوں کو بنیادی سہولت سے محروم رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔عوام علاقہ کی حالیہ میٹنگ میں آفتاب سید، زوئیب گلزار، عبدالخالق اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پرائمری سیکشن کی عمارت کی تعمیر کے لئے فنڈز فراہم کئے جائیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اس حق کی مسلسل نظراندازی عوام کو احتجاج پر مجبور کر رہی ہے۔شرکاء نے واضح کیا کہ اگر مطالبات پر سنجیدگی سے عمل نہ کیا گیا تو عوام اپنے جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے طلبہ کے ہمراہ راولاکوٹ میں متعلقہ اداروں کے سامنے دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ وقتی اعلانات کے بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کریں تاکہ بچوں کو محفوظ اور باوقار تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔

Related Articles

Back to top button