چکوٹھی،چھ ماہ کا بچہ طبی امداد نہ ملنے کے باعث جاں بحق،ورثاء کا شدید احتجاج
چناری (تحصیل رپورٹر)آر ایچ سی چکوٹھی میں اتوار کے روز ڈاکٹر،ڈسپنسر،ایمبولینس ڈرائیور کی عدم موجودگی،ہسپتال کو تالے لگے ہونے کے باعث تقریباً چھ ماہ کا بچہ بروقت طبعی امداد نہ ملنے کے باعث زندگی کی بازی ہار گیا،ورثاء کا نعش سرینگر مظفرآباد روڈ پر رکھ کر شدید احتجاج،محکمہ صحت کے خلاف سخت نعرے بازی،ڈی ایچ او جہلم ویلی نے موقعہ پر پہنچ کر ٹیکنیشن اور ڈرائیور کو معطل کردیا،آئندہ عملہ حاضر رہنے کی یقین دہانی کے بعد ورثاء نے پانچ گھنٹے بعد احتجاج ختم کردیا۔تفصیلات کے مطابق سرحدی قصبہ چکوٹھی کے ملحقہ علاقہ ناگنی،ککیاں کے رہائشی تقریباً چھ ماہ کے بچے عیان ولد حمید شیخ کو نمونیا میں مبتلا ہونے کے باعث آر ایچ سی چکوٹھی لایا گیا تو ہسپتال کو تالے،ڈاکٹر،ڈسپنسر اور ایمبولینس ڈرائیور کی عدم موجودگی کے باعث اسے پرائیویٹ گاڑی میں ہٹیاں بالا لے جایا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا،ورثاء سمیت مقامی لوگوں نے نعش سرینگر مظفرآباد روڈ پر رکھ کر شدید احتجاج اور محکمہ صحت کے خلاف نعرہ بازی کی،کئی گھنٹے بعد ڈی ایچ او جہلم ویلی ڈاکٹر طاہر رحیم مغل،ڈی ایس پی ہٹیاں بالا رضوان ملک،ایس ایچ او چناری چوہدری محمد ممتاز،نائب تحصیلدار ایاز چغتائی پولیس نفری کے ہمراہ موقعہ پر پہنچے،ڈی ایچ او نے مظاہرین کی شکایت سننے کے بعد آر ایچ سی چکوٹھی کے ٹیکنیشن شبیر حسین،ایمبولینس ڈرائیور شفقت شیخ کو معطل کرتے ہوئے آئندہ آر ایچ سی چکوٹھی میں چوبیس گھنٹے عملہ حاضر رہنے کی یقین دہانی کروائی، جس کے تقریباً پانچ گھنٹے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کیا اور نعش لیکر آبائی علاقہ ککیاں روانہ ہو گئے،طبعی امداد نہ ملنے کے باعث جاں بحق ہونے والے بچے کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد اشکبار آنکھوں کے سائے میں آبائی علاقہ میں سپرد خاک کردیا گیا،یاد رہے کہ جہلم ویلی کے اکثر ہسپتالوں میں 24گھنٹے عملہ حاضر نہ ہونے کی اکثر شکایات سامنے آتی ہیں جس باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،عوامی حلقوں نے آر ایچ سی چکوٹھی میں عملہ کی غیر حاضری پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم،وزیر صحت،چیف سیکرٹری اور سیکرٹری صحت آزاد کشمیرسے نوٹس لینے،معصوم بچے کی موت کے ذمہ داران کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔




