بین الاقوامیکھیلگلگت بلتستانمظفرآبادمیرپور

نکاح میں ولی کا کردار اسلامی معاشرت، شرعی اقدار کی بنیاد ہے، علماء

سہنسہ، کوٹلی (بیورو رپورٹ)نکاح میں ولی کے کردار کو اسلامی معاشرت، خاندانی نظام کے تحفظ اور شرعی اقدار کی بنیاد قرار دیتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کے خلاف پنجاب طرز کی واضح، مؤثر اور جامع قانون سازی کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ یہ مطالبہ سہنسہ، ضلع کوٹلی میں آلِ رسول رابطہ کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک اہم علماء کانفرنس میں کیا گیا، جس میں اہلِ سنت اور اہلِ تشیع سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء کرام نے متفقہ طور پر شرکت کی اور ایک مشترکہ موقف اختیار کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز مذہبی اسکالر مفتی حنیف قریشی نے کہا کہ نکاح محض وقتی جذبات، پسند یا جسمانی خواہش کا نام نہیں بلکہ یہ پوری زندگی، نسلوں کی تربیت اور معاشرے کی تعمیر کا ایک مقدس اور ذمہ دارانہ معاہدہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شریعتِ اسلامیہ نے اس حساس اور اہم فیصلے میں ولی کو مرکزی حیثیت دی ہے، کیونکہ عموماً کم عمر لڑکا اور لڑکی زندگی کے اس بڑے فیصلے کے نتائج اور پیچیدگیوں کو مکمل طور پر سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مفتی حنیف قریشی نے کہا کہ عملی تجربہ اور سماجی مشاہدہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ 99 فیصد کورٹ میرج ناکامی پر منتج ہوتی ہیں، جو نہ صرف فریقین کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں بلکہ معاشرے میں فتنہ و فساد، اخلاقی بگاڑ اور خاندانی انتشار کا سبب بنتی ہیں۔ انہوں نے احادیثِ نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمان ہے۔“لا نکاح إلا بولی”یعنی ولی کے بغیر نکاح نہیں، جو سنن ابی داؤد، جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ جیسی مستند کتبِ حدیث میں موجود ہے۔ اسی طرح حضرت عائشہؓ سے مروی حدیث میں نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا کہ جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے، اس کا نکاح باطل ہے، جو سنن ابن ماجہ میں درج ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام پسند کی شادی سے منع نہیں کرتا، تاہم شریعت نے اسے ولی کی رضا، مشاورت اور نگرانی کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ ولی کو بائی پاس کر کے کیا جانے والا نکاح نہ صرف شرعاً ناقابلِ قبول ہے بلکہ بعض احادیث میں ایسے عمل کو زنا کے زمرے میں شمار کیا گیا ہے۔ مفتی حنیف قریشی نے کہا کہ والدین کسی لالچ یا خاندانی دباؤ میں کر بچیوں کے غیر مناسب رشتے بھی نہ کریں بلکہ بچیوں کے میرٹ پر رشتے کیے جانے چاہیے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سجادہ نشین پیر سید غفور حیدری گیلانی نے موجودہ معاشرتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض لبرل حلقے، میڈیا اور ٹی وی ڈرامے دانستہ طور پر غیر اسلامی طرزِ زندگی، آزادانہ تعلقات اور خاندانی اقدار کی تضحیک کو فروغ دے رہے ہیں۔ کو ایجوکیشن اور غیر اسلامی ماحول کے باعث بچیوں کے گھروں سے بھاگنے اور کورٹ میرج کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے منفی اثرات اب آزادکشمیر میں بھی نمایاں ہو رہے ہیں

Related Articles

Back to top button