
پیپلزپارٹی کے راہنما قمر الزمان کائرہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہہ کر معاشرے کے فعال اور عقل وخرد کے حامل افراد کو چونکا دیا ہے کہ ووٹر کی عمر اٹھارہ سال سے بڑھا کر پچیس سال کی جانی چاہئے۔اپنے اس موقف کے حق میں انہوں نے یہ دلیل دی کہ ووٹ تو پارٹی منشور پڑھ کر دیا جاتا ہے جبکہ اٹھارہ سال کے نوجوان میں منشور پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔قمر الزمان کائرہ تو اپنی رائے دے بیٹھے مگر ان کا یہ بیان اب عوام کی امانت بن گیاہے۔پاکستان کی جین زی نے اپنے انداز سے اس بیان کے حسن وقبوح کا پوسٹمارٹم شروع کرکے ایسے دلائل دئیے کہ واقعی جین زی پاکستانی سسٹم کا دردِ سر ہی دکھائی دینے لگی ہے۔ان کا ماتھا یوں ٹھنکا کہ شاید آنے والی آئینی ترمیم میں ووٹر کی عمر بڑھانے کی شق بھی شامل کی جانی ہے جس کے لئے قمر الزمان کائرہ نے تجویز اور رائے کا یہ پٹاخہ چھوڑ دیا ہے۔پاکستان کی نوجوان نسل اب شعور اور جرات کے اس درجے پر ہے کہ وہ اس پٹاخے کے پھٹنے سے خوفزدہ ہوکر بھاگنے کی بجائے اسے ہاتھ سے اُٹھا کر ہواؤں میں اُچھال رہی ہے۔ اگر مستقبل کی کسی آئینی ترمیم میں یہ شق شامل نہیں بھی تب بھی یہ سوچ کسی نہ کسی کوارٹر اور راہداری میں پائی جاتی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں ریاستی نظام اور نسل ِ نو کے درمیان بیانیوں اور بیانیوں کے استرداد کی آنکھ مچولی جاری ہے اس میں جمے جمائے نظام کا جین زی سے تنگ آجانا انہونی بات نہیں۔پاکستان کے نظام نے یوں بھی نسل نو کے لئے اس ملک میں کوئی کشش رہنے ہی نہیں دی اسی لئے آئے روز ایسے سرویز سامنے آتے ہیں جن میں ہر دوسرا نوجوان اپنے بہتر محفوظ اور خوش حال مستقبل کے لئے بیرونی دنیا کی راہ لینے کا خواہش مند دکھائی دیتاہے۔اسی سوچ کے تحت خلیجی یورپی اور دوسرے مغربی ملکوں کے سفارت خانوں کے سامنے ہر روز ویزے کے خواہش مندوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملتی ہیں اور ان میں نوے فیصد نوجوان اپنی ڈگریاں اُٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ جو بے چارے ڈگری حاصل نہیں کر سکے وہ ماؤں کے زیور اور بہنوں کے جہیز بیچ کر انسانی سمگلروں کے ہاتھ پر رکھتے ہیں جو انہیں غیر قانونی طریقوں سے ڈنکیاں لگا کر یورپ میں داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔آئے روز گہرے سمندروں میں کوئی کشتی ڈوبنے کی اطلاع ملتی ہے تو ہر کشتی میں پاکستانی محنت کش نوجوانوں کی اچھی خاصی تعداد شامل ہوتی ہے جن میں اکثر پانیوں کا ایندھن بنتے ہیں کچھ خوش قسمت ڈنکی لگانے کے نقصانات بتانے کے لئے زندہ بچ کر واپس آتے ہیں۔اس طرح ایک سال میں لاکھوں نوجوان ملک چھوڑ کر باہر چلے جاتے ہیں جن میں بہترین دماغ شامل ہوتے ہیں۔یہ لوگ اس بات پر شرح صدر رکھتے ہیں کہ اس ملک میں ان کے ٹیلنٹ کی قدر ہوگی نہ انہیں محنت کا صلہ ملے گا۔ممکن ہے یہ خوف کچھ زیادہ ہی ہومگر جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں حقوق تو کیا جان ومال کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی وہاں کچھ ہوجانے اور پھر اس کے نتیجے میں انصاف نہ ملنے کا خوف ایک عارضہ بن کر رہ جاتا ہے۔ المیہ یہ کہ پاکستان کے اس برین ڈرین کو ”برین گین“ کہا گیا۔کوئی پوچھے کہ پاکستان نے اس سے کیا حاصل کیا؟ سوائے کچھ ڈالروں اورپاونڈز اور ریالوں کے جو وہ اپنے گھروالوں کو بھیجتے ہیں۔اس برین سے اگر کسی نے گین کیا توپاکستان نہیں بلکہ وہ ملک ہیں جہاں ان اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے جا کر بسیرا کیا۔جہاں ان کی صلاحیتیں معاشرتی فلاح اور ترقی کے لئے صرف ہونے لگی ہیں۔بطور پاکستانی وہاں جاکر ان کا غصہ کم نہیں ہوا کیونکہ اب وہ اپنے ملک کے حالات کاان ترقی یافتہ اور سماجی انصاف کے حامل ملکوں کے ساتھ کرنے کی بہتر پوزیشن میں آگئے ہیں۔ پاکستان کی جین زی کو فرضی بیانیوں،افسانوں ترانوں سے بہلایا نہیں جا سکتا کیونکہ ان کے پاس علم تحقیق اور موازنے کے ذرائع ہیں۔گلوبل ویلج بنی دنیا میں وہ دنیا کے ہر کونے کی خبر رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے حکمران طبقات نسل نو کو سبق پڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اس سبق کو اپنے عملی حالات اپنے گردو پیش کی صورت حال کے محدب عدسے میں دیکھتی ہے۔اس وقت پاکستان میں سسٹم اور نسل نو کے درمیان یہی لڑائی چل رہی ہے۔نسل نو کے ذہنوں کو بدلنے کے لئے درجنوں ٹی وی چینلز وقف ہیں جو کسر رہ گئی تھی وہ نت نئے چینلز کے قیام کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔نئی نسل کے چھوٹے چھوٹے ہیروز ہو ا کرتے تھے کوئی کھیل کے میدان کا ہیرو تھا کوئی تحقیق اور دینی علم کا ہیرو تھا کوئی زندگی گزارنے کے اصولوں کے حوالے سے نوجوان نسل کا پاکستانی ڈیل کارنیگی تھا تو کوئی اطلاع ابلاغ اور تجزیے کے حوالے سے نسل نو کا پسندیدہ تھا۔نوجوان نسل کو بیانیہ فروخت کرنے میں ناکامی کے بعد سسٹم نے ان ہیروز کو بے رحمی سے استعمال کیا۔یہ نسل نو کے جذبات کی تند ہواؤں کے مقابل چراغ رکھنے کی کوشش تھی اور اس کا انجام یہ ہوا کہ شاہد آفریدی سے جواد احمد اورمحمد علی مرزا تک اور قاسم علی شاہ سے اقرار الحسن اور جاویدچوہدری تک کسی دور میں نوجوانوں پر گہرا اثر رسوخ رکھنے والے لردار بے اثر ہوتے چلے گئے۔یوں پاکستانی معاشرہ ان چھوٹے چھوٹے ہیروز کے ٹوٹے ہوئے مجسموں کا ایک کباڑ خانہ سا بن گیا۔اب پاکستان کے سسٹم میں ہر سال لاکھوں نوجوان داخل ہورہے ہیں۔یہ نوجوان عملی طور پر حالات اور مراعات سے الگ تھلگ ہیں اب انہیں حق ِ رائے دہی سے بھی محروم کر دینا آبادی کے بڑے حصے کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔اٹھارہ سال کا جو نوجوان دفاع وطن کے لئے منتخب ہونے،بیوروکریٹ بن کر وطن کی تعمیر کرنے سمیت ہر ذمہ داری کا اہل ہوتا ہے وہ ووٹ دینے کا حقدار نہیں کیا نرالی منطق ہے؟جین زی کے سوالوں سے جان چھڑانے کا کوئی بھی انداز ابھی تک کارگر نہیں رہا۔اس کا واحد راستہ اب یہی بچا ہے کہ اس بڑی آبادی کومریخ پر منتقل کر دیا جائے جہاں نہ ان سے آنکھیں ملانے کا موقع آئے نہ ان کے سوال کانوں میں پڑیں گے۔آخر کبوتر بھی تو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے۔اس میں بھی کوئی حکمت اور مصلحت ہوتی ہوگی؟۔ خد الگتی بات تو یہ ہے کہ ہر حیلہ آزمانے کے باوجود اگردوسروں کو بدلنے کی کوشش میں ناکامی ہو رہی ہے تو تھوڑا سا خود بدل جانے کا تجربہ کرکے بھی دیکھ لینا چاہئے۔




