
کسی بھی قوم کا امن، سکون اور احساسِ تحفظ محض اتفاق نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے ان نوجوان افسران اور سپاہیوں کی خاموش مگر عظیم قربانیاں ہوتی ہیں جو شب و روز دفاعِ وطن کے لیے اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھے سرحدوں، چوکیوں اور محاذوں پر مامور رہتے ہیں۔ یہ وہ بہادر سپوت ہیں جو فرنٹ لائن پر قیادت کرتے ہوئے نہ صرف دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بناتے ہیں بلکہ اہلِ وطن کو پرسکون نیند، محفوظ زندگی اور معمولاتِ حیات کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
ہمارے نوجوان افسران قیادت کی علامت بن کر خطرناک ترین حالات میں آگے بڑھتے ہیں، جبکہ سپاہی سینہ تان کر وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی شہادتیں کسی ایک خاندان یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا نقصان ہوتی ہیں۔ یہی وہ قربانیاں ہیں جن کی بدولت ہمیں امن، سکون اور احساسِ تحفظ نصیب ہوتا ہے، اور جن کے بغیر ریاست کی بقا اور استحکام کا تصور ممکن نہیں۔ان نوجوان شہدائے وطن کی قربانیاں محض عسکری کامیابیاں نہیں بلکہ قومی تاریخ کے روشن ابواب ہیں۔ ایسے میں ان کی خدمات کا اعتراف اور احترام صرف ایک جذباتی یا علامتی عمل نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان اور اس کی تمام اکائیوں کی آئینی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔ شہداء کو یاد رکھنا، ان کے نام کو زندہ رکھنا اور آنے والی نسلوں کو ان کی قربانیوں سے روشناس کرانا قومی شعور کی علامت ہے۔
اسی تناظر میں آزاد کشمیر ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آتا ہے، جہاں آزاد حکومت نے شہدائے وطن میڈیا سیل کی مسلسل آواز، جدوجہد اور آگہی مہم کے نتیجے میں گزشتہ دو عشروں کے دوران تقریباً ایک سو کے قریب تعلیمی ادارے، سرکاری تنصیبات اور عوامی مقامات شہداء کے نام سے منسوب کیے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف شہداء کو خراجِ عقیدت ہے بلکہ نئی نسل کو قربانی، حب الوطنی اور قومی ذمہ داری کا عملی سبق بھی فراہم کرتا ہے۔آزاد کشمیر میں یہ روایت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ریاستی ادارے اور حکومتیں سنجیدگی، جذبے اور وژن کے ساتھ آگے بڑھیں تو شہداء کی قربانیوں کو اجتماعی قومی یادداشت کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہی طرزِ عمل پاکستان کی تمام اکائیوں میں اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ شہداء کو صرف تقریبات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کی قربانیوں کو قومی تشخص کا حصہ بنایا جائے۔
میجر محمد انور کاکڑ پاک فوج کے ایک بہادر افسر تھے، جن کا تعلق بلوچستان کے ضلع پشین سے تھا۔ وہ طویل عرصے سے بلوچستان میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف آپریشنز اور ابلاغی جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ شہادت کا واقعہ اس طرح ہے کہ 19 جولائی 2025 کوئٹہ، بلوچستان میں اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے جب نامعلوم دہشتگردوں نے مقناطیسی (magnetic) IED بم کو ان کی گاڑی پر چپکا دیا، جو بعد میں زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس واقعے میں وہ موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ابتدائی تحقیقات اور اطلاعات کے مطابق بزدلانہ حملہ ان کے خلاف خاص طور پر کیا گیا تھا اور پابندی شدہ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ حملے کے دوران گاڑی میں ایک میجر انور کاکڑ کے علاوہ دیگر افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں ایک بچی بھی شامل تھی۔
میجر انور کاکڑ نے اپنی فوجی خدمات کے دوران دہشتگردوں اور انتہا پسند عناصر کے خلاف متعدد اہم آپریشنز میں حصہ لیا تھا اور بلوچستان میں ابلاغی اور خفیہ محاذوں پر بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ دہشتگردی کے خلاف جاری طویل جنگ میں ان کا کردار نمایاں رہا اور وہ متعدد اہم آپریشنز اور سیکیورٹی اقدامات کا حصہ رہے۔ ان کی شہادت پر سیاسی، فوجی اور عوامی حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور اسے ایک قومی سانحہ قرار دیا۔ مختلف شخصیات نے دشمن قوتوں، خاص طور پر بھارت کی حمایت یافتہ گروہوں کی اس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ میجرانورکاکڑشہیدکے جنازے اور فاتحہ خوانی میں حکومتی اور فوجی نمائندوں نے شرکت کی۔ اعلیٰ وفاقی اور صوبائی عہدیداروں نے ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا اور شہداء کے احترام میں مختلف اعزازات اور سہولیات کا اعلان کیا گیا۔
میجر محمد انور کاکڑ شہید اُن نوجوان افسران میں شامل تھے جنہوں نے وطنِ عزیز کے دفاع کو محض پیشہ نہیں بلکہ مشن سمجھ کر اپنایا۔ بلوچستان کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے اس بہادر سپوت نے اپنی زندگی کے قیمتی سال قیامِ امن، انسدادِ دہشتگردی اور ریاستی رٹ کے قیام کے لیے وقف کر دیے۔ ان کی شہادت صرف پاک فوج کا نہیں بلکہ پوری قوم کا نقصان ہے۔ان کی شخصیت کا امتیاز یہ تھا کہ وہ فرنٹ لائن پر قیادت کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ جوانوں کے ساتھ رہ کر آپریشنز کی نگرانی، مقامی آبادی کے ساتھ رابطہ اور امن کے قیام کے لیے عملی کردار ان کے روزمرہ فرائض میں شامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں میں بے حد مقبول اور اپنے افسران کی نظر میں ایک قابلِ اعتماد کمانڈر سمجھے جاتے تھے۔
میجر محمد انور کاکڑ شہید نے فرض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی شہادت اس حقیقت کی گواہ ہے کہ دشمن بزدلانہ حملوں کے ذریعے بھی ان افسران کے حوصلے پست نہیں کر سکتا جو وطن کی سلامتی کو اپنی جان سے مقدم رکھتے ہیں۔ ان کا لہو بلوچستان اور پاکستان کے امن کی ضمانت بن گیا۔ میجر انور کاکڑ شہید کا خاندان ایک باوقار اور محبِ وطن خاندان ہے جس نے اپنے بیٹے کی قربانی کو صبر، استقامت اور قومی فخر کے ساتھ قبول کیا۔ شہید کے لواحقین نے ہر موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ انہیں اپنے بیٹے کی شہادت پر دکھ کے ساتھ ساتھ فخر بھی ہے کہ اس نے وطن کی خاطر جان قربان کی۔ریاست کی جانب سے شہید وں کے خاندانوں کی کفالت، بچوں کی تعلیم اور عزت و احترام کا تسلسل قائم رہتا ہے۔تاہم موجودہ وقت میں شہیدوں کی لہو رنگ وردی کی تعظیم و تکریم کوبرقراررکھنے کیلئے ایسے اقدامات ناگزیرہیں جن سے نئی نسل میں جذبہ حُب الوطنی پیدا ہو اور وہ کسی منفی بیانیہ کا شکار نہ ہوں۔ اور شہداء کے اہلِ خانہ خود کواپنی قربانیوں کی بے قدری کااحساس نہ ہو۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہید میجر محمد انور کاکڑ کے نام پر خروٹ آباد پولیس اسٹیشن اور گورنمنٹ ٹی بی سینیٹوریم اسکول، کوئٹہ کی منسوبیت کے اعلان کے موقع پر کہا کہ شہداء قوم کا فخر اور ریاست کے حقیقی محافظ ہوتے ہیں، جن کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہید میجر انور کاکڑ جیسے بہادر افسران کی بدولت آج پاکستان امن، استحکام اور احساسِ تحفظ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہداء کے نام زندہ رکھنا، ان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا اور آنے والی نسلوں کو ان کے کردار سے آگاہ کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، جبکہ حکومتِ بلوچستان شہداء کے خاندانوں کی کفالت، تعلیم اور فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔بِلاشُبہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے میجر انور کاکڑ شہید کے نام پر خروٹ آباد پولیس اسٹیشن اور گورنمنٹ ٹی بی سینیٹوریم اسکول، کوئٹہ کو منسوب کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو نہ صرف ان کی قربانی کا اعتراف ہے بلکہ نئی نسل کے لیے ایک زندہ مثال بھی ہے۔ یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست اگر چاہے تو شہداء کی قربانیوں کو قومی یادداشت کا مستقل حصہ بنا سکتی ہے۔میجر محمد انور کاکڑ شہید ان افسران میں سے تھے جو خاموشی سے اپنا فرض نبھاتے ہیں اور تاریخ میں بلند مقام پا لیتے ہیں۔ ان کی خدمات، قربانیاں اور کردار آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ قوم پر لازم ہے کہ ایسے شہداء کو صرف تعزیتی بیانات تک محدود نہ کرے بلکہ ان کے نام، فکر اور مقصد کو زندہ رکھے۔یہی ان کے خون کا حقیقی احترام ہے، اور یہی ایک مضبوط، محفوظ اور باوقار پاکستان کی ضمانت بھی۔
یہاں یہ کہنا بجا ہوگا کہ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے نوجوان افسران اور سپاہی ہماری قومی غیرت، سلامتی اور استحکام کی ضمانت ہیں۔ شہید میجر انور کاکڑ کے نام سے سرکاری اداروں کی منسوبی جیسے اقدامات نہ صرف شہداء کو خراجِ عقیدت ہیں بلکہ یہ ریاست کے اس عزم کا اظہار بھی ہیں کہ وہ اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق اور تمام صوبے اسی جذبے کے ساتھ شہداء کی قربانیوں کے اعتراف کو اپنی پالیسی اور عمل کا حصہ بنائیں، تاکہ محبِ وطن قوتوں کا حوصلہ بلند رہے اور دشمن کو یہ واضح پیغام ملے کہ پاکستان اپنے شہداء کی تعظیم و تکریم اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ یہاں یہ کہنا بجا ہوگا کہ نوجوان افسران اور سپاہیوں کی شہادتیں ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہیں کہ امن کی ایک قیمت ہے، اور یہ قیمت وہ اپنے خون سے ادا کرتے ہیں۔ ریاستِ پاکستان، اس کے اداروں اور معاشرے پر لازم ہے کہ وہ ان قربانیوں کے احترام اور اعتراف میں پرجوش، مستقل اور بامقصد کردار ادا کریں، تاکہ شہداء کا نام زندہ رہے اور قوم کا مستقبل محفوظ رہے۔




