ایکشن کمیٹی نے نعروں اور دھمکی آمیز بیانات سے نفرت کا خطرناک بیج بویا، ذیشان رضا

اسلام گڑھ (نامہ نگار)آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے مرکزی ممبر مجلسِ عاملہ و سابق امیدوار اسمبلی نارووال میاں ذیشان رضا نے کہا کہ جموں میں اگست 1947 میں مسلمانوں پر حملے شروع ہوئے جو نومبر تک جاری رہے اس دوران 2 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور لاکھوں مسلمان بے گھر ہوئے‘لندن ٹائمز نے جموں کے قتل عام میں شہدا کی تعداد 23 7000 بتائی ہیچھ نومبر 1947 کو 120 ٹرکوں کا قافلہ لا الہ الا اللہ کے نعرہ پر لبیک کہتے ہوئے جموں سے سیالکوٹ کے لیے روانہ ہوا۔آج مہاجرین سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کون ہیں ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہیتم ہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا آج انہی مہاجرین مقیم پاکستان کے بارے میں بڑی عیاری و مکاری سے چند جعلی سٹیٹ سبجیکٹ کی شکایت کرکے ساتھ ہی تمام مہاجرین کو ریاستی شناخت سے مکمل بے دخل کرنے کی درخواست کو نتھی کردیا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ مہاجرین طلبہ کو کم میرٹ پر داخلہ دیا جاتا ہے اس لیے ان کو ریاست کی شہریت سے بے دخل کیا جائے اگر مسلہ مہاجرین کا کوٹہ سٹیٹ سبجیکٹ داخلہ جات فنڈذ وغیرہ ہی ہے تو یہ معاملات تو بیٹھ کر حل کیے جاسکتے ہیں مسائل ہوں تو مسائل حل کئے جاتے ہیں نہ کے شہریوں کو بے دخل کیا جاتا ہے لیکن یہاں سوال کچھ اٹھائے جاتے ہیں اور پس پردہ مطالبات کچھ اور کئے جاتے ہیں




