آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے لیے وفاقی حکومت کا ہیلتھ کارڈ: وعدوں، تعطل اور بحالی کی ایک مکمل کہانی

صحت کسی بھی مہذب ریاست میں رعایت نہیں بلکہ بنیادی حق سمجھی جاتی ہے، اور یہی وہ پیمانہ ہے جس سے حکومتوں کی ترجیحات، نیت اور کارکردگی کو پرکھا جاتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر جیسے پہاڑی، دور افتادہ اور وسائل کے اعتبار سے محدود خطے میں صحت کی سہولتیں ہمیشہ ایک سنگین مسئلہ رہی ہیں۔ ایسے حالات میں ہیلتھ کارڈ جیسے منصوبے کا اجرا محض ایک فلاحی اسکیم نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری کے شعور اور عوامی ضرورت کے ادراک کا عملی اظہار ہے، جو اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ جب سیاسی قیادت نیت کے ساتھ آگے بڑھے تو پالیسی عوامی سہولت میں ڈھل سکتی ہے۔
پاکستان میں ہیلتھ کارڈ کے تصور کی بنیاد 2016 میں میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں رکھی گئی۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پہلی بار یہ فیصلہ کیا کہ علاج کو خیرات یا سفارش کے دائرے سے نکال کر ایک باقاعدہ ریاستی حق بنایا جائے۔ اسی وژن کے تحت 2016 میں آزاد جموں و کشمیر کے لیے ہیلتھ کارڈ منصوبے کا افتتاح مظفرآباد میں خود وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کیا۔ یہ محض ایک تقریب نہیں تھی بلکہ اس بات کا واضح اعلان تھا کہ کشمیر مسلم لیگ (ن) کی سیاست میں محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ترجیح ہے۔
یہ منصوبہ آزاد کشمیر کے عوام کے لیے امید کی کرن ثابت ہوا۔ غریب، متوسط اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ شدید بیماری کی صورت میں علاج ان کے لیے معاشی تباہی کا سبب نہیں بنے گا۔ بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے اس منصوبے کو جاری رکھا، جو اس بات کا اعتراف تھا کہ ہیلتھ کارڈ ایک قومی نوعیت کا فلاحی منصوبہ ہے۔ تاہم اس دور میں بدانتظامی، شفافیت کے فقدان، بعض نجی اسپتالوں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں اور مالی بے ضابطگیوں کی شکایات بھی سامنے آتی رہیں، جنہوں نے اس سہولت کی افادیت کو متاثر کیا۔
اصل بحران اس وقت پیدا ہوا جب آزاد جموں و کشمیر میں وزیر اعظم انوار الحق کی حکومت قائم ہوئی۔ اس دور میں نہ صرف دیگر عوامی سہولیات بلکہ ہیلتھ کارڈ جیسی بنیادی سہولت بھی عملی طور پر معطل رہی۔ اگرچہ بجٹ تقاریر، حکومتی بیانات اور پریس ریلیز میں بارہا اس کی بحالی کے اعلانات کیے جاتے رہے، لیکن زمینی حقیقت یہ تھی کہ عوام اس سہولت سے محروم رہے۔ علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں، قرض، چندہ اور ذاتی وسائل ہی واحد سہارا بنے رہے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں وعدے اور عمل کے درمیان خلیج کھل کر سامنے آئی۔
انوار الحق حکومت کے بعد پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے بھی اقتدار سنبھالتے ہی ہیلتھ کارڈ کی بحالی کے وعدے کیے، مگر بدقسمتی سے یہ وعدے بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ اس منصوبے کو کمیشن کی بنیاد پر اسٹیٹ لائف
انشورنس سے ہٹا کر کسی نجی انشورنس کمپنی کے حوالے کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی، جس نے عوامی سطح پر شدید تشویش کو جنم دیا۔ صحت جیسے حساس شعبے کو منافع بخش کاروبار بنانے کی سوچ نے عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کیا۔
یہی وہ پس منظر تھا جس میں عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی اس بنیادی اور ناگزیر ضرورت کو اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کا حصہ بنانا پڑا۔ سڑکوں، بجلی، آٹے اور دیگر مسائل کے ساتھ صحت کارڈ کی بحالی عوامی احتجاج کی علامت بن گئی، جو اس امر کی گواہی تھی کہ یہ سہولت عوام کے لیے محض ایک اسکیم نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی تھی۔
ایسے نازک مرحلے پر وفاقی حکومت کا کردار فیصلہ کن ثابت ہوا۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لیے تقریباً چالیس ارب روپے کے ہیلتھ کارڈ منصوبے کا اجرا ایک بڑا اور بروقت اقدام ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف وفاقی سطح پر سنجیدگی کا مظہر ہے بلکہ اس میں میاں محمد نواز شریف کی خصوصی ہدایات اور کشمیری عوام کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی دیرینہ وابستگی بھی شامل ہے۔ میاں شہباز شریف کی ذاتی کمٹمنٹ اور انتظامی صلاحیت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جب ارادہ مضبوط ہو تو رکی ہوئی اسکیمیں بھی بحال ہو سکتی ہیں۔
یہ کوئی اتفاق نہیں کہ پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں شروع کیے جانے والے بڑے قومی منصوبوں میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ہمیشہ سرفہرست رہے ہیں۔ پنجاب میں میرٹ پر طلبہ کو وظائف کی فراہمی ہو، لیپ ٹاپ اسکیم ہو، دانش اسکولوں کا قیام ہو، ہیلتھ کارڈ ہو یا تعمیر و ترقی کے لیے فنڈز کی فراہمی—ان تمام اقدامات میں کشمیر کو مسلسل نظرانداز نہیں بلکہ شامل رکھا گیا۔ یہی سوچ آزاد جموں و کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور حکومت کی ترجیحات میں بھی نمایاں رہی ہے، جہاں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کو سیاسی نعروں سے بڑھ کر عملی اقدامات کے ذریعے آگے بڑھایا گیا۔
آخر میں یہ حقیقت پوری دیانت کے ساتھ تسلیم کی جانی چاہیے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام، اور بالخصوص وہ خاندان جو اس سہولت سے براہِ راست مستفید ہوں گے، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور وفاقی حکومت کے تہِ دل سے شکر گزار ہیں۔ یہ اقدام صرف ایک طبی سہولت نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے رشتے کی تجدید، اعتماد کی بحالی اور فلاحی ریاست کے تصور کا عملی اظہار ہے۔ اب ذمہ داری اس امر کی ہے کہ اس منصوبے کو شفافیت، مؤثر نگرانی اور بلا امتیاز عملدرآمد کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تاکہ صحت واقعی ایک حق بن سکے، محض وعدہ نہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭




