کالمزمظفرآباد

تاجدارِ مظفرآباد — حضرت سائیں سہیلی سرکارؒ ایک صوفی، ایک روایت، ایک روحانی مرکز

تحریر: سید مشرف کاظمی

اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی، اخلاقی اور روحانی نظام ہے جو انسان کے ظاہر ہی نہیں، باطن کو بھی پاکیزگی عطا کرتا ہے۔ اسی مقصدِ عظیم کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے برگزیدہ بندوں کو چُنا، جنہوں نے کردار، خدمت اور محبت کے ذریعے دینِ اسلام کی شمع کو روشن رکھا۔
خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے بعد خصوصاً برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی اشاعت و ترویج جس حسنِ تدبر اور صوفیانہ حکمت کے ساتھ اولیائے کرام نے کی، اس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ خانقاہیں، درگاہیں اور مزارات محض عبادت گاہیں نہیں بلکہ صدیوں تک اتحاد، رواداری اور سماجی ہم آہنگی کے مراکز رہے۔ جب تک برصغیر کے عوام ان خانقاہی روایتوں سے جڑے رہے، فرقہ واریت اور انتہا پسندی ان کے قریب نہ آ سکی۔
یہی وجہ ہے کہ سامراجی اور طاغوتی قوتوں کو یہ نظام ہمیشہ کھٹکتا رہا۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خانقاہی روایت کے بالمقابل ایسے نظام متعارف کروانے کی کوششیں کی گئیں جو نفرت اور تقسیم کو فروغ دیتے تھے۔ اگرچہ یہ منصوبے اپنے بنیادی مقاصد میں ناکام رہے، تاہم معاشرے میں تعصب اور بداعتمادی کے کچھ بیج ضرور بو دیے گئے۔ اسی پس منظر میں داتا دربار اور بری امام سرکار جیسے روحانی مراکز تک دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تصوف کا پیغام آج بھی نفرت کی قوتوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔
ایسے حالات میں غوثِ کشمیر، حضرت سائیں سہیلی سرکارؒ کی شخصیت ایک مضبوط روحانی حوالہ بن کر سامنے آتی ہے۔ اہلِ کشمیر کے نزدیک آپ کی دینی، سماجی اور روحانی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ مظفرآباد اور اس کے گرد و نواح میں آپ کا نام آج بھی عقیدت، احترام اور روحانی وابستگی کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
ہر سال 13 جنوری سے حضرت سائیں سہیلی سرکارؒ کا عرس نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے، جو دس روز تک جاری رہتا ہے۔ اس موقع پر آزاد کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں سے عقیدت مند مظفرآباد کا رخ کرتے ہیں۔ عرس کی تقریبات میں حکومتِ آزاد کشمیر کی خصوصی دلچسپی اس حقیقت کا اظہار ہے کہ آج بھی خانقاہی نظام کو اتحادِ امت کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق برصغیر میں آنے والے بیشتر اولیائے کرام نے روحانی مجاہدے اور چلہ کشی کے لیے پہاڑوں، جنگلوں اور غاروں کو ترجیح دی۔ یہی خاموش مقامات ان کی تربیت گاہیں بنے، جہاں دنیا کے شور سے دور رہ کر انہوں نے اپنے باطن کو منور کیا، اور پھر قریبی بستیوں میں جا کر دعوت و اصلاح کا فریضہ انجام دیا۔ حضرت سائیں سہیلی سرکارؒ بھی اسی صوفیانہ روایت کا تسلسل تھے۔
آپ کا اصل نام تاریخ کے اوراق میں زیادہ محفوظ نہیں، مگر“سائیں سہیلی سرکار”کی نسبت سے آپ مظفرآباد (آزاد کشمیر) میں مرجعِ خلائق کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ کے حوالے سے کوئی باقاعدہ تحریری تاریخ دستیاب نہیں، تاہم مظفرآباد، ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے علاقوں میں آپ کے احوال اور کرامات سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے آئے ہیں۔
روایات کے مطابق 1890ء کے لگ بھگ آپ مظفرآباد کی وادی میں تشریف لائے، جہاں اس وقت چند گھر ہی آباد تھے۔ ایک مقامی شخص کے ہاں قیام کیا اور بغیر کسی معاوضے کے گھریلو اور زرعی کاموں میں ہاتھ بٹانے لگے۔ بھینسیں چرانا، کھیتوں میں مدد کرنا اور خاموش خدمت—یہی آپ کا معمول تھا۔ ایک دن شدید ژالہ باری کے دوران آپ اور بھینس کے گرد اولوں کا نہ گرنا ایک ایسی کرامت تھی جس نے لوگوں کو چونکا دیا۔ مگر صوفیانہ روایت کے مطابق کرامت ظاہر ہوتے ہی آپ نے وہ علاقہ چھوڑ دیا۔
ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں آپ کے قیام کے دوران متعدد واقعات آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ کہیں عدالتی مقدمے کا دریا برد ہو جانا، کہیں خشک زمین سے چشمے کا پھوٹ پڑنا، اور کہیں گندم کے دانوں میں برکت کا واقعہ—یہ سب قصے محض معجزات نہیں بلکہ اس یقین کا اظہار ہیں کہ اللہ اپنے نیک بندوں کے وسیلے سے اپنے بندوں کی مشکلات آسان فرماتا ہے۔
برطانوی دور کا ایک واقعہ بھی مقامی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، جب ایک انگریز افسر نے آپ کی درویشی کو کمتر سمجھا، مگر انجام کار اسے آپ کی روحانی عظمت کا اعتراف کرنا پڑا۔ یہ واقعات اس عہد کے نوآبادیاتی غرور اور صوفیانہ وقار کے ٹکراؤ کی علامت بھی ہیں۔
جب آپ دوبارہ مظفرآباد تشریف لائے تو یہ علاقہ ابھی شہر کی صورت اختیار نہیں کر سکا تھا۔ روایت ہے کہ آپ جنگلوں میں ایسے چکر لگاتے جیسے کسی آنے والے شہر کا نقشہ ذہن میں ہو۔ آج انہی راستوں پر سڑکیں، عمارتیں اور سرکاری دفاتر قائم ہیں، جسے اہلِ علاقہ نگاہِ ولی کی کرامت قرار دیتے ہیں۔
اس خطے میں پہلے سے موجود روحانی بزرگوں —حضرت شاہ حسین بخاری، حضرت محمد علی شاہ، حضرت شاہ عنایت ولی اور حضرت شاہ سلطان—سے متعلق یہ روایت بھی ملتی ہے کہ انہی کے اصرار پر حضرت سائیں سہیلی سرکارؒ نے مظفرآباد کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔
آپ نے نہ شادی کی اور نہ کوئی ظاہری اولاد چھوڑی، مگر آج پوری وادی اور ہزارہ کے علاقے کے لوگ خود کو آپ کی روحانی اولاد سمجھتے ہیں۔ مردوں کو“اڑیا”اور عورتوں کو“سہیلی”کہہ کر مخاطب کرنا آپ کے اس اسلوب کی علامت تھا جو قربت اور شفقت سے بھرپور تھا۔
8 اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے میں جب مظفرآباد کی بیشتر عمارتیں منہدم ہو گئیں، حضرت سائیں سہیلی سرکارؒ کا مزار محفوظ رہا۔ اہلِ عقیدت کے نزدیک یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اللہ کے ولی کی حرمت کا اظہار تھا۔ 1978ء سے یہ دربار محکمہ اوقاف آزاد کشمیر کے زیرِ انتظام ہے اور ہر سال 13 سے 21 جنوری تک یہاں عرس کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔
آزاد کشمیر کے لیے یہ دربار وہی روحانی حیثیت رکھتا ہے جو دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاء اور لاہور میں حضرت داتا گنج بخش کو حاصل ہے۔ آج بھی وادی میں ایسے بزرگ موجود ہیں جو اپنے بچپن میں حضرت سائیں سہیلی سرکارؒ کے کرشمات کے قصے سن چکے ہیں۔
روایت ہے کہ آپ نے 1900ء میں وصال فرمایا اور جس مقام پر زیادہ قیام فرمایا، وہی آپ کا مزار بنا۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان برگزیدہ بندوں کے وسیلے سے ہمیں باہمی نفرت، انتشار اور بے یقینی سے نجات دے اور ہمیں محبت، تصوف اور انسان دوستی کے راستے پر قائم رکھے۔برصغیر پاک و ہند کے باشندے جب تک خانقاہی نظام سے جڑے رہے ان میں نفاق نام کی کوئی شے نہ تھی بلکہ بزرگان دین کے مزارات اور سالانہ عرس مبارک کی تقریبات ہمارے ملی اوردینی جزبے کو اور جلا بخشتی تھیں جس سے معاشرے میں مزید اتحاد اور اتفاق کی فضا قائم ھوتی تھی لیکن ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بزرگان دین بالخصوص خانقاہی نظام کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا گیا گلی گلی میں دینی مدارس قائم ہونے لگے ان میں قران و حدیث کی تعلیم تو دی جاتی تھی مگر ساتھ ہی بڑے منظم اور غیر محسوس طریقے سے مزارات اور خانقاہی نظام کے خلاف پروپگنڈا بھی کیا جاتا بر صغیر میں یہی سے ہی فرقہ واریت نے جڑ پکڑی مسلکی درسگاہیں معرض وجود میں اتی گئی اور اسلام کی اجتماعی اور روشن تعلیم کو اجاگر کرنے کے بجائے اپنے مسلک کا پرچار کیا جانے لگا یاد رہے جب تک لوگ خانقاہی نظام سے وابستہ رہے نہ ذات پات کی تمیز تھی نہ ہی مسلک کی تمام مکتبہ فکر کے لوگ عرس کی تقریبات میں شرکت کرتے جن میں بڑی تعداد غیر مسلم افراد کی بھی ہوتی صوفیانہ کرامات ہی کی بدولت غیر مسلم حلقہ سلام میں داخل ہوتے یہی وجہ ہے کہ بر صغیر پاک و ہند کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے مزارات اور تقریبات میں

اج بھی لاکھوں کی تعداد میں تمام مکاتب فکر کے افراد شرکت کرتے ہیں

Related Articles

Back to top button