مظفرآباد
مطالبات نہ مانے گئے تو تحریک کا آغاز ہوگا ایکشن کمیٹی کی 21فروری نئی ڈیڈ لائن
مظفرآباد (محاسب نیوز) جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حکومت کو معاہدہ کی پاسداری کے لیے مزید ایک ماہ 21 فروری 2026 کی ڈیڈ لائن، آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے 25 فروری کوکوٹلی میں اجلاس طلب کر لیا گیا جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد جموں وکشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق اور آزاد جموں و کشمیر کے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد مکمل عزم و یقین سے جاری رکھنے کا عہد کرتے ہوئے واضح کرتی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ریاست کے عوام کی آزادانہ رائے کے بغیر ممکن نہیں۔ تاہم عبوری انتظام کے طور پر آزاد جموں و کشمیر کی حیثیت و تشخص میں آزاد جموں و کشمیر کے باشندگان کی مرضی و منشا کے بغیر کسی قسم کی تبدیلی کی ایکشن کمیٹی بھرپور مزاحمت کرے گی۔ اور موجودہ جمہوری نظام کے تحت عوام کے پامال شدہ بنیادی حقوق اور خطے کے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے 4 اکتوبر 2025 کے معاہدہ کی حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے کی گئی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان خلاف ورزیوں کو آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو ایک مرتبہ پھر شدید احتجاج پر مجبور کرنے کی کوشش قرار دیتی ہے۔ یہ کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی 24 اکتوبر 1947 کو آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے ظہور میں تحریکِ آزادی کے قیام کے مقاصد سے، یہاں کی حکمران اشرافیہ کی روگردانی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ باشندگانِ ریاست کی آزادانہ رائے سے کرنے کے لیے آزاد جموں و کشمیر کی بیس کیمپ کی حیثیت سے بحالی کے لیے جدوجہد کا عزم کرتی ہے۔جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی 4 اکتوبر کے معاہدوں کے بعد وزارت امورِ کشمیر، حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کے رویوں سے متفق نہیں۔ گزشتہ ماہ کے دوران ریاست بھر میں ہونے والے پُرتشدد واقعات اور ان میں ہونے والی معصوم عوام اور پولیس اہلکاران کی شہادتوں کے ذمہ داران حکومتِ آزاد جموں و کشمیر اور حکومتِ پاکستان کی وزارت امورِ کشمیر اور چند حساس ادارے پشت پناہی کر رہے ہیں جو پوری کشمیری قوم کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ ریاستی عوام کے پُرامن احتجاج پر فائرنگ کرنے والے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور ان قاتلوں کے سرکاری سرپرستوں کو بے نقاب کر کے زیرِ مواخذہ لایا جائے۔جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی حریتِ آزادی ہند و کشمیر کے رہنما یاسین ملک کو ان کی پرامن جدوجہدِ آزادی کے جرم میں مسلسل پابندِ سلاسل رکھنے اور بھارتی حکومت کی طرف سے ان کی عدالتی قتل کی کوششوں کے خلاف 27 جنوری کو مظفرآباد میں احتجاجی مظاہرہ کرے گی، جس دوران اقوامِ متحدہ سے یاسین ملک کی رہائی کے لیے احتجاجی مراسلہ دے گی۔ JKJAAC دنیا بھر میں مقیم کشمیری عوام سے استدعا کرتی ہے کہ وہ 27 جنوری کو جہاں ممکن ہو سکے ہندوستانی سفارت خانوں کے باہر احتجاج کریں۔ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنی جدوجہد کے لیے ایک باقاعدہ ضابطہ اخلاق نافذ کر رکھا ہے۔ کچھ مواقع پر بعض ممبران سے اس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی گئی جس پر تادیبی کارروائی کی گئی اور متعلقہ ممبران کی جانب سے معذرت اور آئندہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ تاہم موجودہ حالات کے تناظر میں ضابطہ اخلاق میں یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ آئندہ کور کمیٹی کا کوئی ممبر کسی حکومتی تقریب میں شرکت نہیں کرے گا۔ نیز ایسی سیاسی پارٹیاں جنہوں نے باقاعدہ طور پر عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کی مخالفت کا اعلان نہیں کیا ان کا ممبر بھی ایسی سیاسی پارٹیوں کا کوئی عہدہ نہیں رکھ سکے گا۔





