مظفرآباد

ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے غزہ امن منصوبہ سبوتاژ ہونے کا خدشہ ہے، سردار مسعود

اسلام آباد (محاسب نیوز)آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ و اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے لیے مجوزہ امن منصوبہ، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی فارمولے کے تحت ”بورڈ آف پیس“ کا نام دیا گیا ہے، ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں سبوتاژ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات غزہ، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر ایک ٹیلی وژن ٹاک شو میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہی۔سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکی، قطر، مصر، اردن اور انڈونیشیا سمیت کئی اہم مسلم ممالک نے غزہ کے استحکام کے لیے اس امن فریم ورک سے اصولی وابستگی ظاہر کی ہے۔ تاہم اسی دوران ایران کے خلاف فوجی کشیدگی اور سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں، جو خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات اور تصاویر ممکنہ تصادم کی تیاریوں کی نشاندہی کرتی ہیں، اور یہ تضاد پورے امن منصوبے کی سنجیدگی، ہم آہنگی اور پائیداری پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ بورڈ آف پیس روایتی بین الاقوامی ادارہ جاتی ڈھانچوں سے مختلف ہے، کیونکہ اس میں حتمی اختیار کثیرالجہتی اداروں کے بجائے براہِ راست صدر ٹرمپ کے پاس ہوگا، جو عملاً اس کے فیصلوں پر ویٹو پاور رکھتے ہیں۔ اگرچہ اقوام متحدہ کے متوازی کردار کی بات کی جا رہی ہے، تاہم بورڈ کے مینڈیٹ، تنظیمی ڈھانچے، مالی وسائل اور اقوام متحدہ کے موجودہ فریم ورک سے اس کے تعلق کے حوالے سے ابہام موجود ہے۔ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سردار مسعود خان نے موجودہ صورتحال کو ”دھندلی جنگ“ سے تعبیر کیا، جہاں متضاد اشارے، حکمتِ عملی پر مبنی بیانات اور دانستہ ابہام پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایک جانب امریکہ یہ یقین دہانی کرا رہا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، جبکہ دوسری جانب بحری اور فضائی عسکری اثاثوں کی خطے میں ازسرِنو تعیناتی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں امریکی فوجی اڈوں، امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے یا آبنائے ہرمز کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔سردار مسعود خان نے ایران کے سامنے رکھے گئے مبینہ مطالبات کا بھی حوالہ دیا، جن میں یورینیم افزودگی پر پابندی، جوہری ذخائر کی حوالگی، میزائل صلاحیتوں میں کمی اور خطے میں ایران کے اتحادی گروہوں کی حمایت کے خاتمے جیسے نکات شامل ہیں۔ ان کے بقول یہ شرائط ایران کے لیے بظاہر ناقابلِ قبول ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر کوئی بھی فوجی حملہ محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس کے اثرات ان عرب ممالک تک بھی پہنچیں گے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلانات اور سفارتی سرگرمیوں کے باوجود شہری ہلاکتیں مسلسل جاری ہیں۔ ان کے مطابق 20 نکاتی فارمولے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد بھی سینکڑوں فلسطینی، جن میں خواتین، بچے اور صحافی شامل ہیں، جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال جنگ بندی کی کمزوری اور مؤثر عملدرآمد کے نظام کی عدم موجودگی کو واضح کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات جاری ہیں، لیکن قتل و غارت کا سلسلہ تھم نہیں سکا، جو امن عمل کی ساکھ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان نے آٹھ مسلم ممالک کی مشترکہ کوشش کے تحت اس امن فریم ورک میں شمولیت اختیار کی، جس کا مقصد صدر ٹرمپ پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ وہ تنازع کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نہ تو حماس کو غیر مسلح کرنے یا اس کی عسکری صلاحیت ختم کرنے کی کسی کارروائی میں شریک ہوگا اور نہ ہی کسی امن نافذ کرنے والے مشن کا حصہ بنے گا۔ ان کے مطابق پاکستان کا کردار اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق امن مشنز، انسانی امداد اور فلسطینی عوام کے حقوق کی وکالت تک محدود رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایک بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس کی تجویز زیرِ غور ہے، جس کی قیادت ایک امریکی کمانڈر کرے گا، لیکن پاکستان نے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں۔ پاکستان کی کسی بھی شمولیت کی شرط یہ ہوگی کہ وہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق سے متصادم نہ ہو اور پاکستان کو جبر پر مبنی فوجی کارروائیوں میں نہ گھسیٹا جائے۔بورڈ آف پیس کی قانونی اور سیاسی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ امریکہ کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر مستقل اراکین نے تاحال اس منصوبے کی باضابطہ حمایت نہیں کی، جبکہ یورپی ممالک کی شمولیت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال عالمی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاس ہے، جہاں کثیرالجہتی اصول کمزور اور یکطرفہ فیصلوں کا رجحان مضبوط ہو رہا ہے۔گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ وہ اس امن منصوبے کا حصہ بن کر جنگ بندی، انسانی امداد اور بالآخر سیاسی تصفیے کے لیے زیادہ مؤثر آواز اٹھا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کا آئندہ کردار اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا یہ منصوبہ واقعی امن کو طاقت کی سیاست پر ترجیح دیتا ہے یا نہیں، اور آیا یہ فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے بنیادی مسئلے کو حل کرتے ہوئے خطے کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے یا نہیں۔

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button