مظفرآباد
حکومتی اقدامات میں ٹیم ورک کی کمی‘وزیراعظم قرض اتارنے کیلئے کوشاں‘ طارق فاروق
اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ فیصل ممتاز راٹھور کی زیر قیادت آزادکشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کے دو ماہ سیاسی عمل کی بحالی، جمود اور انارکی کے خاتمہ کے حوالے سے خوش آئندہیں، حکومت کے کچھ اقدامات سے یہ تاثر سامنے آ رہا ہے کہ ایم ایل ایز کی حکومت بدستور قائم ہے، کارکنوں کی قسط وار ایڈجسٹمنٹ اور غیر ضروری تبادلوں کے علاوہ حکومت کے پاس اصلاحات، گورننس کی بہتری اور ڈویلپمنٹ کے حوالے سے کوئی حکمت عملی موجود نہیں، حکومتی اقدامات میں ٹیم ورک کی کمی نظر آتی ہے، وزیراعظم کچھ قرض اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں مشکلات کا سامنا ہے، صرف اپنے گھر کو صاف کرنا انکی ذمہ داری نہیں، بلکہ حکومت پوری ریاست کے عوام کی نمائندہ ہوتی ہے، سینئر صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ حکومت کے پہلے دو ماہ اس لحاظ سے خوش آئند ہیں کہ سیاسی منظر نامے پر نحوست کا خاتمہ ہواہے، سیاسی جماعتیں مخصوص دباؤ سے آزاد ہو چکی ہیں، اب حکومت کو فیصلوں میں مکمل آزادی ہے، اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، دو ماہ کے اقتدار میں حکومتی سطح پر انتظامیہ کے تبادلوں کے حوالے سے بعض اقدامات میں غیر سنجیدگی واضح نظر آتی ہے، حکومتی معاملات میں ٹیم ورک کی کمی اور اندرونی کشمکش کا تاثر بھی موجود ہے، حکومتی جماعت کے اندر دباؤ کی کیفیت واضح ہو رہی ہے، ایسا نظر آتا ہے کہ حکومت کے پاس اقتدار سنبھالنے کیلئے کوئی پالیسی ہی موجود نہیں تھی، اور نہ ہی کوئی حکمت عملی اختیارکرنے کی کوشش کی گئی،ابھی تک اداروں میں بہتری کیلئے اصلاحات، گڈ گورننس کے قیام اور ڈویلپمنٹ کیلئے کوئی ایجنڈا دستیاب نہیں، حکومتی ٹیم کی صلاحیتیں اپنے انتخابی حلقوں تک محدود ہیں، وزیراعظم نے نیلم سے کوٹلی تک یہ تاثر ذائل کرنے کی کوشش کی لیکن حکومتی ٹیم کی عدم دلچسپی کی وجہ سے انہیں کامیابی نہیں مل سکی ہے، جب ترجیحات طے نہ ہوں تو فیصلوں میں غیر سنجیدگی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے، البتہ عوامی سطح پر آزادکشمیر بھر میں پارٹی کارکنوں اور عوام کو موبلائز کرنے میں فیصل ممتاز راٹھور کامیاب رہے ہیں، ابھی تک آزادکشمیر میں ایم ایل ایز کی حکومت کا تاثر موجود ہے، جس کے خاتمہ کیلئے بروقت فیصلوں اور مشاورت کے ذریعے اقدامات کی ضرورت ہے، حکومت کے اندر حکومتوں کے تاثر میں کمی آئی ہے، وزیراعظم کو جس طرح کا ماحول اور فیصلوں میں آزادی حاصل ہے اس سے استفادہ کرنے کی ضرورت تھی، لیکن یہ ساتھیوں کی ایڈجسٹمنٹ اور انتظامی تبادلوں سے باہر نہیں نکل سکے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدہ پر عملدرآمد کے حوالے سے تیز رفتاراقدامات کے ذریعے سنجیدہ طرز عمل اختیار کر کے مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، کمیشن کے قیام اور آئینی کمیٹی جیسے معاملات ابھی تک تشنہ ہیں، بعض معاملات میں یہ تاثر موجود ہے کہ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومت کی طرح جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر کے معاملات کو طول دینے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ الیکشن کے التواء کا جواز تراشہ جا سکے، چوہدری طارق فاروق کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن جولائی میں ہر صورت ہوں گے، اس حوالے سے کوئی ابہام اور تاخیری حربہ رکاوٹ نہیں بن سکتا، کوشش کے باوجود سابق وزیراعظم انوارالحق آزادکشمیر میں ایمر جنسی نافذ کر کے دو سال کیلئے الیکشن التواء کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کر سکے، الیکشن التواء کا دور دور تک کوئی امکان نہیں، سیکرٹری جنرل مسلم لیگ (ن) نے مزید کہا کہ حکومتی سطح پر کیے گئے اقدامات سے یہ تاثر بھی سامنے آیا ہے کہ حکومت اور بیورو کریسی کے درمیان اعتماد کی فضاقائم نہیں ہو سکی، سابق دور میں خوف کا تاثر تھا جس کو ختم ہو جانا چاہیے تھا، لیکن ابھی تک حکومتی سرگرمیاں بہتر انداز میں تبدیلی کا تاثر قائم نہیں کر سکیں، اعتماد کی کمی نے غیر یقینی کی فضا برقرار رکھی ہے، بحیثیت اپوزیشن ہمارا کام تنقید کرنا اور اصلاح کیلئے حکومتی توجہ مبذول کروانا ہے، اس وقت موثر حکمت عملی کے ذریعے اصلاحات لائی جانی چاہئیں، جو گورننس کی بہتری اور ڈویلپمنٹ کے شعبہ میں بہتری کا باعث بن سکیں، صحت سہولت کارڈ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے آزادکشمیر،جی بی اور اسلام آباد کے عوام کیلئے تحفہ ہے جس کیلئے ہم انکے شکر گزار ہیں، یہ تاثر دینا کہ پاکستان پیپلزپارٹی پاکستان میں حکومت کی اتحادی ہے،درست نہیں، پیپلزپارٹی صرف قومی اسمبلی کی حد تک حکومت کی حامی ہے حکومت کا حصہ نہیں، صحت سہولت کارڈ پر چالیس ارب روپے کے اخراجات آزادکشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے عوام کے ساتھ گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اب یہ حکومت آزادکشمیر کی ذمہ داری ہے کہ ہیلتھ کارڈ کا نفاذ شفافیت کے ساتھ ممکن بنائے، ایک سوال کے جواب میں چوہدری طار ق فاروق کا کہنا تھا کہ راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں قائم حکومت سے جو عوامی توقعات وابستہ تھیں وہ ابھی تک ادھوری ہیں، وزیراعظم کو جس طرح کا ماحول میسر ہے، موثر اقدامات کے ذریعے اپنا بہتر تشخص اجاگر کر سکتے تھے لیکن ابھی تک اس طرح کے کسی اقدام کی جھلک نظر نہیں آئی، چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سمیت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کیلئے سنجیدہ طرز عمل کی ضرورت ہے، حکومتی سطح پر پیکیج پیکیج کھیلنے کا کام بند ہونا چاہیے، حکومت کو اپنی پالیسی اور طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے، برقیات، تعلیم، صحت کے شعبہ میں پیکیجز کے اعلان سے پہلے بنیادی ضروریات کا ڈیٹا حکومت کے پاس ہونا چاہیے، سابق وزیراعظم کی طرح فنڈز اور دیگر ضروری اقدامات بچا کر رکھنا ٹیم ورک کی کمی کا منہ بولتا ثبوت ہے، وزیراعظم کی موجودہ کابینہ نے سابق دور حکومت سے کچھ نہیں سیکھا، دو ماہ کے اقتدار میں حکومت کو اپنی ترجیحات طے کر لینی چاہیے تھیں لیکن بعض شعبوں میں کچھ بھی نہیں بدلہ، جیسا کہ ابھی تک مختلف محکمہ جات میں سابق انتظامیہ کا موجود ہونا ہے، بھمبر سمیت سرکاری زمینوں پر قبضے بدستور قائم ہیں، وزیراعظم کسی ایک شعبہ میں عملی قدم اٹھا کر شروعات کر کے مثال بنا سکتے تھے، کفایت شعاری کے دعوؤں کو عملی شکل دینے کی ضرورت تھی سابق دور کے تلخ حقائق آشکار ہونے پر اب سب پریشان ہیں، آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے مسلم لیگ (ن)کی حکمت سے متعلق سوال پر چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) عام انتخابات کیلئے مکمل طور پرتیار ہے اُمیدواروں سے ٹکٹوں کیلئے درخواستیں وصول کی جا چکی ہیں، فروری کے پہلے ہفتے میں ٹکٹ کے معاملات یکسو کرنے کی کوشش ہے، کوشش کی جا رہی ہے کہ جن حلقوں میں ایک سے زیادہ اُمیدوارہیں اور اختلافی کیفیت ہے وہاں سیاسی کمیٹی کے ذریعے اختلافات ختم کیے جائیں، سیاسی کمیٹی اس حوالے سے اپنا کام کر رہی ہے، بہت جلد مسلم لیگ (ّن) آزادکشمیر بھر میں ورکرز کنونشن کے ذریعے انتخابی مہم کا آغا زکریگی، مسلم لیگ (ن) مثبت جمہوری روایات کی حامل نظم وضبط کی پابند جماعت ہے پیپلزپارٹی اور کچھ دیگر جماعتوں کے وہ لوگ جو مسلم لیگ ن کے اندر اختلاف دیکھنے کے منتظر ہیں انہیں مایوسی ہو گی، ایک اور سوال کے جواب میں سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ابھی تک مسلم لیگ (ن) نے کسی سیاسی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات زیر غور نہیں لائی، الیکشن جولائی میں ہونے ہیں، انتخابی اتحاد اور سیاسی ایڈجسٹمنٹ کا حتمی فیصلہ مرکزی قیادت کرے گی،ابھی تک اتحاد کے حوالے سے کوئی بات زیر غور نہیں ہے۔




