مظفرآباد

حکومت اسمبلی اجلاس بلاکر مقبوضہ کشمیر میں مظالم کیخلاف متفقہ لائحہ عمل دے‘ خواجہ فاروق

مظفرآباد(محاسب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد نے ممتا حریت پسند لیڈر یاسین ملک کی بھارتی جیلوں میں مسلسل گرفتاری اور اب مقبول بٹ،افضل گورو کی طرح انہیں بھی پھانسی دینے کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا میں خبریں /اطلاعات انے کے بعد حکومت آزاد کشمیر سے کئی بار مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ فوری طور پر آزاد کشمیر اسمبلی کا اجلاس بلائیں،ساری سیاسی جماعتوں بشمول APHCکی قیادت کو اعتماد میں لے کر ایک متفقہ لائحہ عمل بھارت کے اس بزدلانہ وحشیانہ اقدام کو بے نقاب کرنے کے لیے طے کریں۔لیکن مقام افسوس ہے کہ بیس کیمپ کی حکومت اپنی ہی اسمبلی کا اجلاس نہیں بلا رہی۔خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کے پاس اسمبلی میں عددی اکثریت ہوتی تو ہم خود اسمبلی کے لیے ریکوزیشن کر چکے ہوتے،اب اپوزیشن میں بیٹھنے کے دعویدار/اراکین اسمبلی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر حکومت اجلاس نہیں بلانا چاہتی تو آپ خود ریکوزیشن اسمبلی سیکرٹیریٹ میں جمع کرا دیں آخر آپ کو اجلاس بلانے میں کیا امر مانع ہے۔ 5 فروری کو ہم کشمیریوں سے یوم یکجہتی منائیں گے،بڑے بڑے دعوے کریں گے لیکن ایک ممتاز حریت پسند کشمیری رہنما یاسین ملک کو ہم نے بھارتی حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے کیا ہم اسلام آباد میں امریکہ، فرانس،برطانیہ،چین،روس سمیت دیگر اہم ممالک کے سفارت خانوں کو متفقہ قرارداد بھی نہیں پیش کر سکتے۔کیا ہم اسلام آباد،مظفرآباد میں سب اکٹھے ہو کر بین الاقوامی میڈیا سے پریس ٹاک بھی نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ سب کچھ ہم نہیں کر سکتے تو پھر بیس کیمپ کی اس حکومت،اس اسمبلی،ان سیاسی جماعتوں کے قیام کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے۔آخر کس نے ہمیں یاسین ملک کی رہائی اور ممکنہ پھانسی دیے جانے، عدالتی قتل سے روکنے کے لیے احتجاج کرنے سے روکا ہوا ہے۔

Related Articles

Back to top button